غلبۂ اسلام
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
قوموں کی طرف سے بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بار بار دوسرے گروہ کی زد میں آجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف جذبات ابھرتے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کی طرف سے اپنے کو خطرہ میں پاکران کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس مسئلہ کو قرآن کی روشنی میں دیکھئے تو اس کا جواب اس سے بالکل مختلف ملے گا جو ایک عام قومی لیڈر ایسے حالات میں سوچتا ہے۔ قرآنی جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ خواہ جان و مال کے نقصان کی سطح پر پیدا ہو مگر اس کا حل تمھارے لئے ابدی طور پر دعوتی عمل میں رکھ دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ہر حال میں جدوجہد کا مقام دعوت الی اللہ ہے نہ کہ وہ دنیوی محاذ جہاں بظاہر ان کا حریف انھیں خطرہ بنا ہوا نظر آتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے واسطہ سے امت کو یہی سبق دیا گیا ہے: یا ایہا الرسول بلغ ما أنزل اليك من ربك اے رسول جو کچھ تم تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک اسے پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کا پیغام نہ پہنچایا من الناس (مائدہ (۶۷) اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ جب بھی اہل ایمان کے لئے دوسروں کی طرف سے عدم تحفظ کا خطرہ ہو یا مغلوبیت کا سوال پیدا ہو تو ان کو دعوت الی اللہ کے کام کی طرف دوڑنا چاہئے، اسی کام میں لگنے سے خدا کا قانون ان کے حق میں متحرک ہوگا اور وہ غیر معمولی اسباب پیدا ہوں گے جو بالآخر ان کے لئے نجات اور کامیابی کا ذریعہ بن جائیں۔ دعوت دین کے کام کی ایک خاص فوقیت (Advantage) یہ ہے کہ فطرت کو ابدی طور پر اس کا ہم نوا بنا دیا گیا ہے تعصب کی سطح پر کوئی آدمی خواہ کتنا ہی مخالف ہو مگر فطرت کی سطح پر حق کی آواز تمام انسانوں کے لئے اپنے دل کی آواز ہے۔ حق کی پکار ایک ایسی پکار ہے جس کا ایک شئی ہر آدمی کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ خدا کا دین اور انسان کی فطرت دونوں ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر اپنے خالق کا تصور لئے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کا باطن اس کی اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ہر لمحہ زور کر رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے ڈال دے۔ گویا دین حق ایک ایسا سودا ہے جس کا ہر آدمی پہلے سے خریدار بنا ہوا ہے۔ اس فطری مساعدت کے ساتھ اسلام کو ایک تاریخی مساعدت بھی حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسرے تمام مذاہب اپنے ماننے والوں کی تحریفات کے نتیجہ میں اپنا اصلی حسن کھو چکے ہیں۔ وہ اتنا بدل چکے ہیں کہ ان میں اور فطرت انسانی میں وہ مطابقت باقی نہیں رہی جو فی الواقع دونوں کے خالق کے درمیان رکھی تھی۔۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ کسی دوسرے مذہب کو مانتے ہیں وہ صرف روایت پرستی کی بنا پر اس کو مانتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader