Urdu book · احیاء اسلام

اسلام اور سائنس

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ چنانچہ یہ لوگ ترکی کو چھوڑ کر اٹلی اور فرانس جانا شروع ہو گئے۔ سائنسی تحقیق کا کام مسلم دنیا سے نکل کر مغربی دنیا میں منتقل ہو گیا۔ ترکوں نے علم اور اہلِ علم کی جس طرح حوصلہ شکنی کی اس کی درد ناک تفصیل محمد کرد علی شامی کی کتاب تاریخ الحضارة العربیہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ مغربی دنیا میں ان سائنس دانوں کی زبردست پذیرائی ہوئی۔ صلیبی جنگوں (۱۱۷۲ء - ۱۰۹۵ء) میں مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپی قوموں کو شکست اس لئے ہوئی تھی کہ مسلمان علم وفن میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان جنگوں میں ابتداءً رومی فوجوں نے یونانی آگ (Greek Fire) استعمال کی جس سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا ۔ "یونانی آگ" ایک قسم کی پچکاری تھی جس میں آتش گیر کیمیائی مرکب بھر کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا۔ مسلم سائنس دانوں نے اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ایجاد کی۔ اس میں روغن نفط (معدنی تیل) استعمال ہوتا تھا۔ اس کی مار زیادہ دور تک تھی اور اس کا نقصان بھی یونانی آگ سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ یورپ کے مسیحی قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی علمی پس ماندگی کو دور کرنے کے لئے بیتاب تھے۔ اب جو مسلم دنیا کے اہلِ علم ان کے یہاں پہنچے تو انھوں نے ان کے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ یورپ میں علمی تحقیق کا وہ کام دگنی شدت کے ساتھ ہونے لگا جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہورہا تھا۔ سولھویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک، تقریباً تین سو سالہ عمل کے نتیجہ میں یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو سائنسی اور صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے ۔ مغرب کی سائنسی ترقی میں مسلمانوں کے حصہ کے بارے میں مزید تفصیل بريفالٹ کی کتاب تعمیر انسانیت (Making of Humanity) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ سولھویں صدی تک مسلمان علم کے میدان میں استادی کے مقام پر تھے۔ مگر اس کے بعد کی صدیوں میں یورپ نے جو ترقیاں کیں اس نے مسلمانوں کو شاگردی کے مقام پر پہنچا دیا۔ مسلمان خود اپنی لائی ہوئی انقلابی دنیا میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ تاہم اب بھی یہ موقع تھا کہ وہ یورپ کی تحقیقات سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھیں اور وہ واقعہ دوبارہ نئی شکل میں ظہور میں آئے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں کے علوم کو نیا دینا کر یورپ ان سے آگے بڑھ گیا تھا۔ اب مسلمان یورپ کے علوم کو لے کر مزید آگے کی ترقیاں حاصل کر سکتے تھے۔ مگر یہاں دو خاص وجہیں راستہ میں حائل ہو گئیں ۔ ایک تاریخی امکان واقعہ بننے سے رہ گیا۔ سائنس کے معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی غفلت ۱۔ صدیوں تک سائنسی علوم سے دور رہنے کے بعد یورپ کے ذریعہ جب سائنس مسلمانوں کی طرف آئی تو وہ صرف ایک علم کے طور پر نہیں آئی۔ بلکہ وہ ملک گیری اور استعمار کے جلو میں آئی۔ مسلمانوں کے پاس یہ سائنس لے کر وہ لوگ آ رہے تھے جنھوں نے مسلمانوں سے ان کی عظمت اور ان کے اقتدار کو چھینا تھا۔ ان کی تہذیب اور ان کے مذہبی شعائر پر حملے کئے تھے۔ اس موقع پر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغربی سائنس کو مغربی سیاست سے الگ کر کے دیکھیں۔ انھوں نے دونوں کو ایک سمجھا۔ وہ جس طرح مغربی قوموں کے دشمن بنے، اسی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page