اسلام اور سائنس
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ زمین و آسمان کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں (يتفكرون في خلق السماوات والارض، آل عمران (۱۹) اس اعتبار سے ایک سائنس داں وہی کام کرتا ہے جو ایک مومن کرتا ہے۔ تاہم دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ سائنس داں کا عمل صرف تحقیق کے لئے ہوتا ہے اور مومن کا عمل عبرت کے لئے۔ سائنس داں کے پیش نظر علم برائے علم ہوتا ہے اور مومن کے پیش نظر علم برائے مقصد۔ سائنس داں اضافہ علم پر مطمئن ہوتا ہے اور مومن اضافہ ایمان پر۔ ذہن کا یہ فرق دونوں کے طرز مطالعہ میں بہت بڑا فرق پیدا کردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں اشیاء کی ماہیت کو چھوڑ کر صرف اشیاء کے خواص کے مطالعہ تک اپنے کو محدود رکھتا ہے۔ وہ اشیاء کی کارکردگی کو ان کی معنویت سے جدا کردیتا ہے۔ سائنس داں کو ایسا اس لئے کرنا پڑتا ہے کہ وہ صرف اپنی عقل کی رہنمائی میں کائنات کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اور انسان کی عقل قطعیعت کے ساتھ صرف قابلِ تجربہ چیزوں کو دیکھ پاتی ہے، اس لئے اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ کائنات کے قابلِ تجربہ پہلوؤں تک اپنے مطالعہ کو محدود رکھے۔ مگر مومن اپنی عقل کے ساتھ نبوت کی رہنمائی کو تسلیم کئے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لئے وہ خواص اشیاء سے گزر کر حقائق اشیاء تک اپنے مطالعہ کو لے جاتا ہے۔ وہ ”مخلوق“ کو اس کے ”خالق“ کے ساتھ شامل کرکے دیکھتا ہے۔ یہ فرق مومن کے مشاہدہ کائنات میں زبردست معنویت پیدا کر دیتا ہے۔ اس کو ساری کائنات صفات خداوندی کا ظہور نظر آنے لگتی ہے۔ کائنات کو پاتے ہی وہ اس خدا کو بھی پالیا ہے جس پر وہ پیغمبر کے واسطہ سے ایمان لایا ہے۔ ۲۔ قرآن میں کائناتی واقعات کو قرآنی پیغام کے حق میں بطور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ گویا قرآن میں جو بات نظری طور پر کہی گئی ہے، کائنات اس کے حق میں واقعاتی دلیل ہے۔ اس اعتبار سے پوری سائنس قرآن کا علم کلام ہے۔ کیونکہ سائنس کسی سائنس داں کے خود ساختہ علم کا نام نہیں بلکہ وہ خدا کی کائنات میں کام کرنے والے قوانین کی تلاش کا نام ہے۔ ان قوانین کا جو حصہ بھی سائنس دریافت کرتی ہے وہ خدا کی کارفرمائیوں کی ایک جھلک ہوتی ہے، وہ خدا کی آیتوں میں سے ایک آیت (نشانی) کا انسانی علم میں آنا ہوتا ہے۔ سائنس داں کے لئے سائنس علم برائے علم ہے یا زیادہ سے زیادہ علم برائے تعمیر دنیا۔ مگر مومن کے لئے سائنس ایک علمی ہتھیار ہے جس سے وہ دعوت حق کی جدوجہد میں کام لیتا ہے، جس سے وہ اپنی بات کو مدلل کرکے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ۳۔ سائنس کا تیسرا پہلو، اسلامی نقطہ نظر سے، وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا۔ یعنی وہ موجودہ زمانہ میں قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے اسلام اور مسلمانوں کو سر بلند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سائنس کی قوت کو پوری طرح فراہم کیا جائے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ مسلمان سائنس کی تحقیق و تحصیل میں آگے بڑھیں، حتی کہ وہ اس میں امامت کا درجہ حاصل کر لیں۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں ساری مسلم دنیا میں سیاسی آزادی کی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے مسلم قائدین کا یہ خیال تھا کہ بیرونی سیاسی قبضہ سے آزاد ہونے کا نام غلبہ ہے۔ وہ سیاسی آزادی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader