Urdu book · احیاء اسلام

جدید معقولات

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی انقلاب سے پہلے انسانی فکری بنیاد فلسفیانہ قیاسات پر قائم تھی، سائنسی انقلاب کے بعد انسانی فکر کی بنیاد معلوم حقائق و واقعات پر رکھی گئی ہے۔ اسی سے قدیم علم کلام اور جدید علم کلام کا فرق سمجھا جاسکتا ہے۔ قدیم علم کلام کی بنیاد فلسفیانہ طرز استدلال پر تھی، جدید علم کلام کی بنیاد فطری طرز استدلال پر ہے۔ پہلے قیاسی منطق کے ذریعہ بات کو ثابت کیا جاتا تھا۔ اب وہ زمانہ ہے کہ بات کو حقیقی شواہد کے ذریعہ ثابت کیا جائے۔ جدید ذہن کی اس مختصر وضاحت کے بعد اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جدید طرز استدلال دوسروں کے لئے خواہ جدید ہو مگر اسلام کے لئے وہ جدید نہیں۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ قرآن کا طرز استدلال عین وہی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں حقائق فطری سے استدلال کہا جاتا ہے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ جدید علم کلام دراصل قرآنی علم کلام ہے۔ جدید معقولات اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ قرآنی معقولات کی طرف لوٹنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب قدیم عراق کی مشرک قوم کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو سورج، چاند اور ستاروں کے مشاہدات سے اپنی دعوت کے اوپر دلیل قائم کی۔ یہ جناب کا یہ واقعہ سورہ انعام (رکوع (۹) میں بیان ہوا ہے۔ وہاں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وتلك حجتنا آتيناها ابراهيم على قومه (یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے اوپر عطا کی) یہاں حجتنا کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو انداز کلام اختیار کیا وہ خدائی انداز کلام تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حجت خداوندی یا استدلال الہی کا طریقہ یہ ہے کہ کائنات کے معلوم ومشہور حقائق سے استدلال کیا جائے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا نے اپنی کتاب میں جو تعلیم قلمی طور پر دی ہے، ساری کائنات کو اس کے حق میں عملی دلیل بنا دیا ہے۔ پھر جو دلیل خود خدا نے مقرر کی ہو اس سے بڑھ کر دہیں اور کون سی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن میں کہا گیا ہے کہ هـذ كتابنا ينطق عليكم بالحق (جاثیہ (۲۹) اور دوسری طرف کائنات کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ما خلقنا هما الا بالحق (دخان (۳۹) قرآن اور کائنات دونوں ایک ہی مشیت ربانی کا اظہار ہیں، ایک جگہ یہ اظہار لفظی صورت میں ہورہا ہے اور دوسری جگہ عملی صورت میں۔ قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہی طریقہ خدا کے تمام پیغمبروں نے اختیار کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام انتہائی قدیم زمانہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر آنجناب کا طرز استدلال بھی ٹھیک وہی تھا جس کو آج ہم فطری یا حقیقی شواہد پر مبنی استدلال کہتے ہیں۔ سورۂ نوح کو دیکھئے ۔ حضرت نوح کی زبان سے ارشاد ہوا ہے : فقلت استغفر و اربکم انه كان غفارا۔ يرسل السماء عليكم مدرارا ۔ ويمد دكم باموال و بنين۔ و يجعل لكم جنات و يجعل لكم انها را۔ ما لكم لا ترجون لله وقارا۔ وقد خلقكم اطوارا ۔ الم تر و كيف خلق اللہ سبع سماوات طباقا۔ وجعل القمر فيهن نورا و جعل الشمس سراجا ۔ والله انبتكم من الارض نباتا۔ ثم يعيدكم فيها

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page