Urdu book · احیاء اسلام

جدید معقولات

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

دیتا ہے اور اس کے اندر جو سائنسی بیانات ہیں، جب ان کا مطالعہ آج کیا جاتا ہے تو وہ قرآن کو انسانی کتاب قرار دینے کے خلاف ایک چیلنج معلوم ہوتے ہیں۔ ۳۔ قرآنی کلامیات کا تیسرا اصول یہ ہے کہ کائنات کے اس پہلو کو نمایاں کیا جائے کہ خدا نے اس کو ہمارے لئے بطور میزان مقرر کیا ہے۔ قرآن کی دعوت یہ ہے کہ انسان خدا کی اطاعت کرے، وہ اپنے عجز کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے ڈال دے۔ اس مطالبہ کے حق میں قرآن نے فلسفیانہ قسم کے دلائل نہیں قائم کئے بلکہ فطری انداز کے دلائل قائم کئے ۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک آیت کا مطالعہ کیجئے : لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُم ہم نے اپنے پیغمبروں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط و ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ قائم رہیں انصاف پر۔ انزلنا الحديد فيه بأس شدید ومنافع اور ہم نے لوہا اتارا اس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے للناس وليعلم الله من ينصره ورسله بالغیب لئے فائدہ ہے۔ اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون بے دیکھے اللہ ان الله قوي عزيز (حدید (۲۵) کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ قوی اور زبر دست ہے۔ میزان عربی زبان میں ترازو کو کہتے ہیں۔ یعنی وہ آلہ جس سے تول کر کسی چیز کی برابری کسی دوسری چیز سے معلوم کی جائے۔ پوری کائنات اس معنی میں خدا کی میزان ہے۔ کائنات کی ہر چیز کو خدا نے اسی حق و عدل کی بنیاد پر قائم کر رکھا ہے جس کا مطالبہ انسان سے کیا جا رہا ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں جس عدل پر جبر قائم ہیں اسی عدل پر انسان کو اپنے آزاد ارادہ سے قائم ہونا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کتاب میں اپنی پسند کے تمام عادلانہ طریقے بتا دئے ہیں۔ دوسری طرف کائنات کو عملاً انھیں عادلانہ طریقوں پر قائم کر دیا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ قرآن میں اصول عدل کو پڑھ کر اس سے رہنمائی حاصل کرے ۔ اور اسی کے ساتھ کائنات کے ربانی پیمانہ سے ناپ کر دیکھتا رہے کہ اس کا طریقہ خدا کے پسندیدہ معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں یہاں میزان کے طور پر لوہے کا ذکر کیا گیا ہے۔ لوہے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مومن کے بے خطا کردار کو مثل کیا ہے ۔ موجودہ زندگی میں ہر قسم کا نافع قابل اعتماد کردار دار سے وابستہ ہے۔ مادہ کی دنیا میں یہی طاقت ور کردار لوہے کا ہوتا ہے۔ انسان کی دنیا میں یہی طاقت در کردار خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے ۔ اس سلسلہ میں ایک مثال شہد کی مکھی کی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں اور درختوں میں اور ٹیلوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے گھر بنا۔ پھر ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس۔ اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں میں چل۔ اس مکھی کے اندر سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page