احیارِ اسلام
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظوں میں اس طرح ادا کیا ہے: وہ اس امت کے سب سے افضل لوگ تھے۔ وہ سب سے زیادہ نیک دل، سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلف والے تھے۔ اللہ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کے قیام کے لئے چن لیا تھا (کانوا افضل هذۃ الامۃ أبرها قلوباداعمقهاعلما واقلها تكلفا اختارهم الله لصحبته ولاقامة دينه) دورِ شرک میں انسان سے سب سے اہم صفت جو کھوئی گئی تھی وہ تھی ۔ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت۔ اب انسان حقیقت کو محسوسات اور مناظر کی سطح پر دیکھتا تھا، وہ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔ یہی اصل رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے پچھلے زمانے میں نبیوں کا مذاق اُڑایا جاتا رہا۔ وہ خدا کے منکر نہ تھے مگر انھوں نے خدا کو محسوسات کے پیکر میں ڈھال لیا تھا۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اس لئے انھوں نے نظر آنے والی چیزوں کو خدائی کا پیکر فرض کر کے ان کو اپنا مرکزِ توجہ بنا لیا تھا، خواہ یہ مادی برائیاں ہوں یا انسانی بُرائیاں۔ ان کی یہی کمزوری پیغمبر کی پیغمبری پر یقین کرنے میں مانع تھی۔ ہر پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے وہ محض ایک انسان ہوتا ہے۔ بھی اس کے نام کے ساتھ وہ تاریخی بُرائیاں شامل نہیں ہوتیں جو بعد کے دور میں اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اپنی دعامیں فرمایا تھا: اے میرے رب، اس شہر (مکہ) کو تو امن والا شہر بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے میرے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے میدان میں بسایا ہے جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں (ابراهيم، ۳۷ - ۳۵) حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا غلبہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ عالی شان بت خانے ہر طرف قائم تھے۔ انسان کے لئے بظاہر نا ممکن ہو گیا تھا کہ وہ اس سے ہٹ کر سوچ سکے۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک چٹیل زمین میں ایک نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ ایک محفوظ علاقہ میں ایسے افراد تیار کرنے کا منصوبہ تھا جو ظواہر سے اوپر اٹھ کر حقائق کا پرستار بن سکے۔ چنانچہ اسی انسانی مادہ سے وہ قوم بنی جس کے متعلق قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ولكن الله حبب اليكم الايمان وزينه في قلوبكم مگر اللہ نے ایمان کو تمھارے لئے محبوب بنا دیا اور اس وكره اليكم الكفر والفسوق والعصيان کو تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور تمھارے لئے کفر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader