Urdu book · احیاء اسلام

احیارِ اسلام

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ کی قرارداد کے مطابق اپنے بستروں سے خاموشی کے ساتھ اٹھے، اور مقام موعود کی طرف اس طرح چلے جیسے چڑیا جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ چھپتی ہوئی چلتی ہے (نتسلسل القطا مستخفین، سيرة ابن هشام، جز برثانی، صفحه (۴۹) وہ لمحہ بھی کیسا عجیب تھا جب کہ ایک دنیا پیغمبر کو رد کر چکی تھی، اس وقت کچھ لوگ اس کو قبول کرنے کے لئے سبقت کر رہے تھے، یہ وہ وقت تھا کہ پیغمبر سے ان کا وطن چھینا جا چکا تھا۔ طائف سے انہیں پتھر مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ تمام قبائل نے آپ کو پناہ میں لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں مدینہ کے لوگوں نے آپ کی صداقت کو پہچانا اور آپ کی پکار پر لبیک کہا۔ اس وقت جب کہ انصار مدینہ بیعت کے لئے بڑھے، ایک شخص نے اٹھ کر کہا، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ اپنے اموال اور اپنی اولاد کو ہلاک کرنے پر بیعت کر نہ لے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ ہم علی تہكة الاموال والاولاد بیعت کر رہے ہیں پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم نے اس عہد بیعت کو آخر تک پورا کر دیا تو ہمارے لئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا جنت ۔ انھوں نے کہا، اپنا ہاتھ لائیے، ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ۔ اپنے آپ کو اس طرح ایک متنازعہ صداقت کے حوالے کرنا، اپنا سب کچھ اس طرح ایک غیر قائم شدہ حق کو سونپ دینا اتنا انوکھا واقعہ ہے کہ وہ اجتماعی سطح پر تاریخ میں صرف ایک ہی بار پیش آیا ہے، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ غیر متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو عرب میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود تھے جن کو موجودہ زمانہ میں قومی مسائل کہا جاتا ہے اور جن مسائل کے نام پر عام طور پر دنیا میں تحریکیں اٹھتی ہیں۔ یہ مسائل ذہین افراد کو متاثر کرتے ہیں اور وہ ان کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تمام مسائل موجود تھے لیکن آپ نے ان سے مطلق تعرض نہیں کیا۔ اگر آپ ان مسائل میں الجھتے تو یہ خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شامل کرنا نہ ہوتا۔ وہ سارے مواقع جو ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا کے گئے تھے برباد ہو کر رہ جاتے۔ ۱۔ حبش نے ۶۲۵ میں عرب کے سرحدی علاقہ یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ ابر ہہ اس زمانہ میں شاہ حبش کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ ابرہہ کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (۵۷۰ء) میں اس نے ہاتھیوں کی فوج سے کہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھادے اور مکہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کر دے۔۔ ۵۰ سالہ قبضہ کے بعد مین پر حبشی کی حکومت ختم ہوئی اور اس پر شاہ فارس کی حکومت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page