سورہ نور کی روشنی میں
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2766؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 89)۔ اس میں ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں چند اشارے درج کیے جاتے ہیں: 1۔ ایک سادہ سے واقعہ کو بہانہ بنا کر جن لوگوں نے مذکورہ مہم چلائی ان کا مقصد رسول یا زوجہ رسول کو بدنام کرنے سے زیادہ دعوت اسلامی کو بدنام کرنا تھا۔ رسول کو اخلاقی حیثیت سے مشتبہ ثابت کر کے وہ دراصل رسول کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی ہر زمانے میں شیطان کا طریقہ ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کی جائے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے وہ براہِ راست خدا کی حمایت کے تحت اٹھتی ہے۔ اس کو مشتبہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا گو یا خدا کے منصوبے سے ٹکرانا ہے اور کون ہے جو خدا کے منصوبے سے ٹکرا کر کامیاب ہو۔ حق کی دعوت کے لیے مقدر ہے کہ وہ لازماً قائم رہے، یہاں تک کہ وہ حق کو ناحق سے جدا کرنے میں آخری حد تک کامیاب ہو جائے۔ 2۔ امتحان کی اس دنیا میں ایک معصوم اور بے قصور آدمی کے ساتھ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے جس کو غلط معنی پہنایا جا سکے اور اس طرح خدا سے بے خوف لوگوں کو موقع مل جائے کہ وہ اس کے ذریعہ اس کو بدنام کر سکیں۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں ان کو ایسے موقع پر ہمیشہ خوش گمانی کے تحت رائے قائم کرنا چاہیے۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہیے کہ محض سن کر بلا تحقیق اس کو صحیح مان لیں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader