اسلام کا طریق دعوت
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
طعام کا ہے۔ مثلاً ہاتھ سے کھایا جائے یا چمچے سے۔ فرش پر کھایا جائے یا میز کرسی پر۔ جوتا پہن کر کھایا جائے یا جوتا اتار کر۔ وغیرہ۔ پہلا مسئلہ کلیات دین کا مسئلہ ہے۔ اللہ نے نام لے کر متعین طور پر بتا دیا ہے کہ بندے کے لیے کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام۔ مگر جہاں تک دوسری چیز کا تعلق ہے، اس میں اس قسم کی تعیناتی زبان استعمال نہیں کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور اصحاب کرام کی زندگیوں میں اس سلسلے میں ایک سے زیادہ نمونے ملتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص حرام و حلال کے منصوص احکام کو تاکید و تشددید کا موضوع بنائے تو امت میں فرقہ بندی کی نوبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ یہ عملاً انھیں چیزوں کی تاکید و تشددید ہوگی جو تمام علماء امت کے درمیان پہلے سے متفق علیہ ہیں۔ رائے کی حد تک ان کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس کے برعکس اگر آداب طعام کے مسائل پر تاکید و تشددید کی جانے لگے تو ساری امت کا کسی ایک مسلک پر متحد الرائے ہونا ممکن نہ ہوگا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کہے گا جوتا اتار کر کھانا ضروری ہے۔ کیوں کہ حدیث میں ہے اخلعوا نعالکم۔ دوسری طرف کسی اور کو یہ کہنے کا موقع ہوگا کہ یہ کوئی جائز نا جائز کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ضرورت کا معاملہ ہے، جس میں سہولت ہو ویسا کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پوری حدیث اس طرح ہے: اخلعوا نعالکم فانها اروح لا قدا امکم اپنے جوتے اتار دو کیونکہ اس میں تمھارے پیروں کے لئے زیادہ راحت ہے۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کلوا من الطيبات واعملوا صالحا (مومنون (۵۱) پر تو خوب زور دیا جائے۔ مگر آداب طعام کی نوعیت کی چیزوں میں رواداری اور توسع کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ____________ تحریک اپنی حدیث اپنی اصلی اور ابتدائی شکل میں اسی کا نام تھی۔ اگر چہ بعد کو وہ اس مسلک پر قائم نہ رہ سکی۔ کم از کم عوام کی سطح پر یہی صورت حال ہے۔ دین کی تکمیل کیا ہے موجودہ زمانہ میں "مکمل اسلامی انقلاب"، "کے علم برداروں اور لایغیر مکمل حاملین دین، کے درمیان مختلف ملکوں میں جو تصادم جاری ہے، اس کی بنیاد در اصل "دین کامل"، کا غلط نظریہ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک کامل (تمدنی قوانین کے اعتبار سے کامل) دین ہے اس لئے دین کو قائم کرنے کا مطلب لازماً یہی ہے کہ اس کو ایک کامل تمدنی نظام کی حیثیت سے برپا کیا جائے۔ اگر کامل دین کا یہ مطلب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ناقص دین تھا۔ کیوں کہ معلوم ہے کہ ان کو تمدنی ضوابط و قوانین سرے سے دیئے نہیں گئے اور اسی طرح دوسرے اکثر انبیاء کو۔ حالاں کہ قرآن میں صراحت ہے کہ تم کو بھی وہی دین دیا گیا ہے جو دوسرے نبیوں کو دیا گیا تھا اور اسی دین کو تمھیں قائم کرنا ہے (شوری (۱۳) اصل یہ ہے کہ دین نام ہے پورے معنوں میں موحد بننے کا۔ دین کا کامل ہونا دراصل توحید کا کامل ہونا ہے۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اپنے رب کو پالے اتنا ہی اس نے اپنے دین کو کامل کیا اور جس نے اپنے رب کو جتنا کم پایا اتنا ہی اس کا دین ناقص رہا۔ قانونی دفعات خواہ کتنی ہی زیادہ لکھ دی جائیں پھر بھی وہ دین کو مکمل نہیں کریں گی۔ مثال کے طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader