حکمتِ دین
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
لشکر کا کام خط سے یزید کے زمانہ میں عراق کا گورنر ابن زیاد تھا۔ وہ اسلامی تاریخ کا ایک بدنام شخص ہے۔ تاہم اس کے ایک واقعہ میں بڑی نصیحت ہے۔ اس کے زمانہ میں بعض سرحدی علاقوں میں بغاوت ہو گئی۔ اس کے درباریوں نے کہا کہ ہم کو فوراً لشکر بھیجنا چاہئے ورنہ باغی ہتھیار نہ رکھیں گے۔ ابن زیاد نے کہا کہ لشکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم ایک خط بھیجتے ہیں اور وہ خط ہی بغاوت کو فرو کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا۔ اس موقع پر اس نے جو جملہ کہا تھا وہ عربی زبان میں اس مفہوم کے لئے ضرب المثل بن گیا ہے۔ اس نے کہا : کتابٌ يُنوبُ عن کتابٍ ایک خط لشکر کا قائم مقام ہے اس کے بعد ابن زیاد نے ایک دھمکی کا خط باغیوں کے نام روانہ کیا اور خط پاتے ہی انھوں نے گھبرا کر اپنی بغاوت ختم کر دی۔ ابو فراس حمدانی نے عباسی خلیفہ کی تعریف میں قصیدہ لکھا تھا۔ اس میں وہ اسی قسم کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے : اذا ما اَرسَلَ الامراءُ جیشا الى الاعداءِ ارسلنا الکتابا دوسرے امراء جہاں اپنے دشمن کے مقابلہ کے لئے لشکر بھیجتے ہیں وہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں یہی گہری سیاست کا راز ہے۔ سیاست یہ نہیں ہے کہ جہاں کوئی حریف نظر آئے اس سے براہِ راست لڑائی چھیڑ دی جائے۔ یہ بیوقوفوں کی سیاست ہے جس کے نتیجہ میں خون خرابہ کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ عقل مند آدمی کی سیاست ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور اور مستحکم بنایا جائے کہ جب کسی کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کے نام ایک وارننگ لکھ کر بھیج دینا کافی ہو۔ لڑے بھڑے بغیر محض دھمکی سے معاملہ ختم ہو جائے۔ دشمن کے خلاف طاقت کا استعمال ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ دشمن کی طاقت کو اپنے خلاف استعمال کئے جانے کا خطرہ مول لیا جائے۔ دو طرفہ استعمال طاقت کے بعد فاتح کو بھی کھنڈر کے اوپر اپنا جشن فتح منانا پڑتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی لڑنے کے لئے مجبور کر دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ سب سے بڑی فتح وہ ہے جو لڑ کر حاصل ہو اور سب سے اچھی فتح وہ ہے جو لڑے بغیر آدمی کے حصہ میں آ جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader