Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آیت وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا اور اگر تم کو دونوں کے درمیان بگاڑ کا اندیشہ مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا ہو تو ایک منصف مرد کے اہل میں سے اور ایک إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا منصف عورت کے اہل میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں خَبِيرًا اصلاح چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان النساء ۳۵ موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا باخبر ہے ۔ اس آیت کی تشریح میں مولانا محمود حسن صاحب لکھتے ہیں " یعنی اے مسلمانو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ خاوند اور عورت میں مخالفت اور ضد ہے۔ وہ اپنے باہمی نزاع کو خود نہ سلجھا سکیں گے تو تم کو چاہیے کہ ایک منصف مرد کے اقارب میں سے اور ایک منصف عورت کے اقارب میں سے مقرر کر کے بغرض فیصلہ زوجین کے پاس بھیجو۔ یہ دونوں منصف احوال کی تحقیق کریں گے۔ اور جس کا جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر باہم موافقت کرا دیں گے۔ اگر دونوں منصف اصلاح بین الزوجین کا قصد کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے حسن نیت اور حسن سعی سے زوجین میں موافقت کرا دے گا ۔ جب بھی دو مسلمانوں میں نزاع کی کوئی صورت پیدا ہو تو وہ قرآن کے اس حکم کے تحت آجاتے گا۔ اور عام مسلمانوں پر لازم ہو جائے گا کہ اس طریقہ کو اختیار کر کے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو ختم کریں۔ تاہم اس قرآنی حکم کی برکت اسی وقت ظاہر ہوسکتی ہے جب کہ فریقین اپنے ذاتی اصرار کو چھوڑ کر خدائی فیصلہ کے آگے جھکنے پر راضی ہوں۔ حضرت علی کے سامنے ایک مرد اور ایک عورت کا جھگڑا لایا گیا۔ آپ نے دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر فرمایا۔ عورت نے کہا کہ میل کتاب اللہ کے فیصلہ پر راضی ہوں، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف ۔ مرد نے کہا کہ اگر تفریق کا فیصلہ ہوا تو وہ مجھے قبول نہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ خدا کی قسم تجھ کو اللہ کی کتاب کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے گا، خواہ وہ تمہارے موافق ہو یا تمہارے خلاف ۔ (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، صفحه ۴۹۳)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page