تاریخی واقعات
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
جب جھٹکا لگتا ہے ابتدائی زمانہ کے ترک سلطان بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ لوگوں کے درمیان ایک عام انسان کی طرح رہتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ دربار میں بھی کسی غیرمعمولی اہتمام کے بغیر بیٹھتے تھے۔ اس کے بعد ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا اور اس نے ترک سلاطین کے انداز کو بالکل بدل دیا۔ سلطان محمد ثانی (۱۴۸۱ء-۱۴۵۱) وہ ترک حکراں ہے جس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور اس کے بعد سلطان محمد فاتح کے عظیم نام سے مشہور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے وزیروں کے ساتھ مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس اثنا میں ایک کسان کوئی فریاد لے کر حاضر ہوا۔ یکساں قسم کے لوگوں کے درمیان وہ سمجھ نہ سکا کہ وہ کس سے مخاطب ہو۔ اس نے کہا: تم میں سے سلطان کون ہے سلطان محمد فاتح نے ایک دیہاتی کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو وہ اس کو بہت ناگوار گزرے۔ اس نے محسوس کیا کہ دیہاتی نے بھرے مجمع میں اس کی توہین کر دی۔ وہ اٹھ کر خاموشی سے اپنے محل کے اندر چلا گیا۔ اس کی سادہ مزاجی پر اس کا احساسِ سلطانی غالب آگیا اور اس کے بعد سے اس نے وزیروں اور درباریوں کی مجلس میں بیٹھنا بند کر دیا۔ سلطان نے اب یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ لوگوں سے الگ ایک دریچہ کے پیچھے بیٹھتا اور وہاں بیٹھ کر اپنے وزیروں کی باتیں یا لوگوں کی درخواستیں سنتا۔ دھیرے دھیرے مزید تبدیلی آئی اور بعد کو یہ اصول بھی باقی نہ رہ سکا۔ سلطان سلیمان اعظم (۱۵۶۶ء-۱۵۲۰) کے دور سے ایسا ہوا کہ سلاطین ترکی نے وزیروں کی مجلس میں شرکت بالکل بند کر دی ۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ وزرا ر کی مجلس صدر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر بحث و مشورہ کرتی اور اس کے بعد وہ جس فیصلہ تک پہنچتی اس کو صدر اعظم سلطان تک پہنچا دیتا۔ سلطان اس کو سن کر اپنا حکم سنا دیتا جو اس باب میں آخری ہوتا۔ آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ عام حالات میں بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ مگر جب اس کے نفس کو کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اچانک وہ بدل جاتا ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو غیر معمولی حالات میں بھی درست رہے۔ جھٹکا لگنے کے بعد بھی جس کے اندر تبدیلی نہ آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader