Urdu book · الربَّانِيَّةُ

تاریخی واقعات

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

بے ترتیب نماز ایک آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ نماز پہلے پڑھ لے اور وضو اس کے بعد کرے تو ایسے آدمی کو نماز پڑھنے والا نہیں کہا جائے گا۔ شریعت کی نظر میں وہ ایک سرکش آدمی ہے نہ کہ نمازی آدمی۔ اگر کوئی آدمی اس قسم کی بے ترتیب نماز پڑھے تو اگر چہ وہ بظاہر نماز کے تمام اجزا کو دہرارہا ہوگا، مگر اس کی بے ترتیبی اس کی نماز کو باطل کر دے گی۔ شریعت کبھی اس کو نمازی نہیں کر سکتی۔ آج کی دنیا میں ایک ملین مسلمان ہیں، مگر ایسا کوئی مسلمان نہیں ملے گا جو اس قسم کی بے ترتیب نماز پڑھتا ہو۔ کیوں کہ وہ نماز کے معاملہ میں اس مسئلہ کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کو یقین ہے کہ خدا کے یہاں ایسی بے ترتیب نماز کی کوئی قیمت نہیں۔ مگر ایک اور معاملہ میں بے شمار انسان اسی قسم کی "نماز" پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے نماز پڑھ لیں، پھر اس کے بعد وضو کریں۔ شریعت الہی سے اس انحراف کے باوجود بہت سے مسلمان ان کو اسلامی ہیرو سمجھتے ہیں اور ان کو مجاہد کا خطاب دیتے ہوئے ہیں۔ یہ مسلمان وہ ہیں جو اپنے اعلان کے مطابق، اسلامی حکومت یا اسلامی نظام قائم کرنے کا نعرہ لگارہے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے آپ نے لمبی مدت تک تربیتی جد و جہد کر کے لوگوں کا ذہن بنایا۔ اس کے بعد اسلام کے قانون کو لوگوں کے اوپر نافذ کیا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مجاہدین اسلام اس کے برعکس یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حکومت پر قبضہ کریں، اس کے بعد افراد کا ذہن بنانے کا کام کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ملک حاصل کرو، اس کے بعد اسلامی زندگی کی تعمیر کرو۔ پہلے فاسد حکمران کو ہلاک کرو، اس کے بعد صالح قیادت پیدا کرنے کی محنت کرو۔ پہلے سینما ہاؤس کی عمارت کو توڑو، اس کے بعد سینما بینی کا مزاج ختم کرو۔ پہلے سیاسی تبدیلی لے آؤ، اس کے بعد افراد کا ذہن بدلو۔ پہلے وزارت اعلام پر قبضہ کرو، اس کے بعد وسائل اعلام کو اسلام کی اشاعت کے لیے استعمال کرو۔ وغیرہ اس قسم کی تمام کارروائیاں "پہلے نماز اور اس کے بعد وضو" کی مصداق ہیں۔ نماز کی ترتیب بدلنے کے بعد نماز نماز نہیں رہتی، اسی طرح اسلامی تحریک کی ترتیب اگر بدل دی جائے تو ایسی اسلامی تحریک بھی اس کے بعد اسلامی تحریک باقی نہیں رہے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page