تاریخی واقعات
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
مقبول دین قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور قیامت میں وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا (ومن يبتغ غير الاسلام دينافلن يقبل منه وهو فى الآخرة من الخاسرين ) عام طور پر اس کی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ اسلام آخرت میں نجات کا ذریعہ اس لیے بنے گا کہ وہ سب سے کامل دین ہے۔ اس کا رسول سب سے افضل رسول ہے۔ اس کی کتاب سب سے زیادہ بابرکت کتاب ہے۔ آیت کی یہ تغیر قرآنی تفسیر نہیں۔ یہ ایک مضبوط بات کو کمزور دلیل سے ثابت کرنا ہے۔ قرآن میں دوسرے مقام پر ہے کہ خدا اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں (ان الله ليس بظلام للعبيد) مذکورہ تفسیر قرآن کے اس بیان کی تردید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسانی نسل کے ایک حصہ اور دوسرے حصہ کے درمیان فرق کیا ہے پیغمبر آخرالزماں کے ظہور سے پہلے پیدا ہونے والوں کو اس نے کم تر درجہ کا دین دیا اور جو لوگ پیغمبر آخرالزماں کے ظہور کے بعد پیدا ہوئے ان کو برتر دین عطا فرمایا۔ یہ بات یقینی طور پر خدا کی شان کے خلاف ہے۔ خدا اپنی رحمت کی تقویم میں کبھی ایسا امتیاز کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نجات کا ذریعہ اس لیے ہے کہ اب وہی ایک محفوظ دین ہے۔ پچھلے دور میں آنے والے دین بھی اپنے زمانہ میں اتنا ہی مقبول دین تھے جتنا کہ اسلام آج مقبول دین ہے۔ مگر جب ان کی آسمانی کتابوں میں تحریف ہوگئی۔ ان کے عاملین نے ان میں کمی بیشی کردی تو اب وہ خدا کی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ نہ رہے۔ اسلام مکمل طور پر ایک محفوظ دین ہے اس لیے وہ خدا کی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر پچھلے تمام دین بعد کے زمانہ میں رد کر دیے گیے اور صرف اسلام ہدایت کے ذریعہ کی حیثیت سے باقی رہا۔ اسلام اور دوسرے ادیان میں اصلی فرق یہ ہے کہ اسلام محفوظ ہے اور دوسرے ادیان غیر محفوظ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader