Urdu book · الربَّانِيَّةُ

تجلیاتِ حق

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر، صبر، صبر انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ حد درجہ خود پسند واقع ہوا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے کو عزت اور بڑائی کے مقام پر دیکھے، ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی رائے سب سے اچھی رائے سمجھی جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے حق کے سفر کو موجودہ دنیا میں مشکل ترین سفر بنا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کروڑوں انسانوں میں ہر آدمی جب اپنے کو صحیح سمجھے تو کون کس کی بات سنے گا اور کون حق کو حق سمجھ کر قبول کرے گا۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان لیا جارہا ہے۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو ’’میں پرستوں‘‘ کے ہجوم میں اپنے کو ’’بے میں‘‘ بنا لے۔ جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں تحلیل کردے۔ جو اپنی بات کے مقابلہ میں حق کی بات کو اختیار کر لے۔ جو دنیا کی عزت کے مقابلہ میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے ۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں وہ اپنی طرف سے منفی رویہ کا اظہار نہ کرے ۔ اسی کا نام صبر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک بے حد مشکل راستہ ہے۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی آدمی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو کچل ڈالے۔ حق کا سفر جنت کا سفر ہے۔ اور جنت کے متعلق حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ ناخوش گواریوں سے ڈھانک دی گئی ہے (حجبت النار بالشهوات وحجبت الجنة بالمكاره) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جنت کی طرف بڑھنے والے کے لئے ناخوش گوار حالات سے گزرے بغیر چارہ نہیں۔ جو شخص بھی جنت کا مسافر بننا چاہے اس کو پہلے ہی جان لینا چاہئے کہ وہ ایک ایسے راستہ پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے تلخ باتیں آئیں گی ، جس میں طویل انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی، جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاری کی باتیں پیش آئیں گی۔ حتی کہ کبھی جارحانہ کارروائیوں کا سامنا ہوگا۔ ان مواقع پر حق کا مسافر اگر صبر کھودے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے تو وہ یا تو بدل ہو کر اپنا راستہ بدل لے گا یا درمیان کے کانٹوں سے الجھ کر رہ جائے گا اور آگے نہ بڑھ سکے گا۔ جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لئے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت ہونا نہ جانے ، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینہ کی ویرانیوں میں چھپالے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page