Urdu book · الربَّانِيَّةُ

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

تبلیغ کے طریقے ۹ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل شرک کے درمیان حالت جنگ قائم تھی۔ عین اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو تا کہ وہ اللہ کا کلام سنے (حتی یسمع کلام اللہ) التوبہ ۶ دوسری جگہ قرآن میں تبلیغ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ــــــــ تم ان کو قرآن کے ذریعہ نصیحت کرو (فذکرهم بالقرآن) ق ۴۵ پہلی آیت میں ”سننے“ کی بات کہی گئی ہے اور دوسری آیت میں ”سنانے“ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ مخاطب کو سننے کا موقع دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ داعی خود مخاطب کے پاس پہنچ کر اس کو سنائے۔ ایک کو بالواسطہ تبلیغ کہہ سکتے ہیں اور دوسرے کو براہ راست تبلیغ۔ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت تبلیغ کی ہے۔ حتیٰ کہ عین جنگ کے دوران دشمن قوم کا ایک فرد مسلم آبادی میں آجائے تو اس کو موقع دیا جائے گا کہ وہ آزادانہ طور پر اسلام کو سمجھ سکے۔ مسلم معاشرہ میں کلامِ خداوندی یا تعلیمات اسلامی کا چرچا اس طرح جاری رہنا چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص وہاں آئے تو وہ خدائی بات کو سُن سکے اور اسلام کی تعلیمات سے واقف ہو سکے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جو اپنے ماحول کے اعتبار سے اسلام کی عملی تبلیغ بنا ہوا ہو۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو اسلام کی براہ راست تبلیغ میں سرگرم رہنا چاہیے۔ ان پر فرض ہے کہ وہ غیر مسلم اقوام کی زبان سیکھیں۔ ان کی تہذیب کا مطالعہ کریں۔ وہ فکری اور علمی اعتبار سے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کریں کہ وہ غیر مسلم اقوام پر اسلام کی مؤثر تبلیغ کر سکیں۔ کسی مسلم معاشرہ کو جانچنے کا یہی صحیح ترین معیار ہے۔ جس معاشرہ میں یہ دونوں باتیں پائی جائیں وہ مسلم معاشرہ ہے، اور جہاں یہ دونوں باتیں موجود نہ ہوں، وہ ایک عام قسم کا دنیوی معاشرہ ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں وہ معاشرہ جس کو مسلم معاشرہ کہا جائے۔ اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے، اس لیے اسلام کی تمام سرگرمیاں تبلیغ رخ (Tabligh-oriented) ہیں، حتیٰ کہ ہنگامی دور کی سرگرمیاں بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page