مسائلِ ملت
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کی تعمیر اگر آپ جنوری ۱۹۹۰ میں ہوں تو دسمبر ۱۹۹۰ کی منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کو بارہ مہینے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ زمین اپنے محور پر ۳۶۵ بار گھومے گی ، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہو گا کہ آپ کا ایک سال پورا ہو اور آپ تکمیلِ سال کے مرحلہ تک پہنچ سکیں ـــــ کتنی زیادہ معلوم ہے یہ حقیقت۔ مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس معلوم بات کو جانتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بار بار اقدام کرتے ہیں اور بار بار ناکام ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اقدام کے مذکورہ تقاضے پورے نہیں کرتے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو سب سے پہلے جو بات جاننی ہے وہ یہی ہے۔ انھیں اپنے بارہ میں اس حقیقت کو جاننا ہے کہ وہ تاریخ کے آغاز میں ہیں ، وہ تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ جو شخص راستہ کے ابتدائی سرے پر کھڑا ہوا ہو، وہ درمیانی فاصلہ کو طے کیے بغیر راستہ کے انتہائی سرے پر نہیں پہنچ سکتا۔ یہ اس دنیا کا ایک عالم گیر قانون ہے۔ مگر اس عالم گیر قانون کو مسلمانوں کے رہنما ملت کی تعمیر کے معاملہ میں بالکل بھول جاتے ہیں۔ وہ عملاً پہلے مہینہ میں ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ چھلانگ لگا کر آخری مہینہ میں جا پہنچیں۔ وہ بنیاد کی تعمیر نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خیالی مکان کی بالائی چھت پر کھڑے ہوئے نظر آئیں۔ واقعہ کے اعتبار سے وہ اپنے سفر کے آغاز میں ہوتے ہیں اور ایسے انتہائی الفاظ بولتے ہیں گویا کہ وہ درمیانی راستہ طے کیے بغیر اپنی آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ یاد رکھیے ، ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم ایک با مقصد قوم تیار کریں ۔ ہمیں قوم کے افراد کو وہ تعلیم دینا ہے جس سے وہ ماضی اور حال کو پہچانیں ۔ ان کے اندر وہ شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانیں ۔ ان کے اندر وہ حوصلہ ابھارنا ہے کہ وہ شخصی مفاد اور وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر قربانی دے سکیں ۔ یہ سارے کام جب قابلِ لحاظ حد تک ہو چکے ہوں گے ، اس کے بعد ہی کوئی ایسا اقدام کیا جا سکتا ہے جو فی الواقع ہمارے لیے کوئی نئی تاریخ پیدا کرنے والا ہو۔ اس سے پہلے اقدام کرنا صرف موت کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے ، نہ کہ زندگی کے چمنستان میں داخل ہونا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader