مسائلِ ملت
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ذمہ دار کون حدیث میں آیا ہے کہ ان الفتنة نائمة لعن الله من ايقظھا (بے شک فتنہ سویا ہوا ہے اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو اس فتنہ کو جگائے) اس حدیث رسول میں دیکھنے کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں حاملین فتنہ پر لعنت نہیں کی گئی ہے بلکہ موقظین فتنہ پر لعنت کی گئی ہے۔ یعنی فتنہ کرنے والوں کو برا نہیں کہا گیا ہے بلکہ ان لوگوں کو برا کہا گیا ہے جو فتنہ کو جگانے کا سبب بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو اپنے عمل کی آزادی ہے۔ اس لیے یہاں فتنہ اور حاملین فتنہ کا وجود تو ہمیشہ باقی رہے گا۔ یہ دنیا کبھی ان سے خالی نہیں ہوسکتی۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انتظام خاص کے تحت ان فتنوں کو سلا رکھا ہے ۔ ابتدائی طور پر وہ خوابیدہ حالت میں پڑے ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر کوئی شخص انھیں نہ جگائے تو وہ ان کے شر سے بچا رہے گا۔ ایک سانپ راستہ میں بے حس و حرکت پڑا ہوا ہے۔ ایک نوجوان وہاں سے گزرا۔ اس نے سانپ کو چھیڑا۔ اس نے سوئے ہوئے سانپ کو جگا دیا۔ اس کے بعد سانپ حرکت میں آگیا۔ اس نے نوجوان کو کاٹ لیا۔ اب سمجھ دار آدمی کس کو برا کہے گا۔ سانپ کو یا نوجوان کو۔ ظاہر ہے کہ ہر آدمی نوجوان کو برا کہے گا۔ ہر آدمی اس سے کہے گا کہ سانپ جب خاموش پڑا ہوا تھا تو تمہیں اس کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی ۔ تم اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کے کنارے سے گزر جاتے۔ جب تم نے ایسا نہیں کیا بلکہ سانپ کو چھیڑا تو اب اپنی مصیبت کے ذمہ دار تم خود ہو نہ کہ موذی سانپ ۔ ٹھیک یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ انسانی معاشرہ میں بھی ہمیں یہی طریقہ اختیار کرنا ہے کہ ہم سوئے ہوئے" سانپ " کو نہ چھیڑیں ۔ ہم اس سے اعراض کرتے ہوئے اپنے راستہ پر آگے بڑھ جائیں۔ اگر ہم نے انسانی سانپوں کو چھیڑا اور اس کے بعد وہ ہمارے خلاف متحرک ہو گئے تو خدا کے قانون اور رسول کے ارشاد کے مطابق ہم خود اس کے برے نتائج کے ذمہ دار قرار پائیں گے ۔ ہماری کوئی بھی لفظی چیخ پکار ہمیں اس ذمہ داری سے بری قرار نہیں دے سکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader