Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کیسا ہوتا ہے مومن وہ ہے جو خدا کو اس حیثیت سے پالے کہ وہ سب سے زیادہ خدا سے ڈرے اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرے۔ وہ اپنی سوچ اور اپنے جذبات کا مرکز صرف ایک خدا کو بنالے۔ ایسا آدمی ہر قسم کے سطحی اور منفی جذبات سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اس کے سینہ میں دوسرے آدمیوں کے لئے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ جب اپنے کسی بھائی سے اس کی ملاقات ہوتی ہے تو اس کا سلامتی کا جذبہ ”السلام علیکم“ کی صورت میں اس کے منھ سے نکل پڑتا ہے۔ اس طرح وہ پہلے ہی قدم پر اپنا تعارف اس حیثیت سے کراتا ہے کہ وہ اس کی بھلائی چاہنے والا ہے، وہ اس کی برائی چاہنے والا نہیں ہے۔ جب گفتگو ہوتی ہے تو وہ نرمی اور شرافت کے ساتھ بات کرتا ہے۔ وہ نہ چیختا اور نہ سخت آواز میں بولتا۔ وہ اپنی زبان سے صرف سچی بات نکالتا ہے، جھوٹی بات نہیں نکالتا۔ وہ ایسا نہیں کرتا کہ اس کے دل میں کچھ ہو اور اپنی زبان سے کچھ کہے۔ وہ کسی سے ایسا وعدہ نہیں کرتا جس کو پورا کرنے کے لئے اس کے دل میں پکا ارادہ نہ ہو۔ کوئی ایسی بات پیش آجائے جس سے اس کے دل پر چوٹ لگی ہو تب بھی وہ بیودہ انداز اختیار نہیں کرتا۔ کوئی چھوٹا ہو تو وہ اس کے ساتھ حقارت کا رویہ اختیار نہیں کرتا۔ کسی کے ساتھ اس نے احسان کیا ہو تو وہ اس کو طعنہ نہیں دیتا۔ وہ اپنے چھوٹوں کے لئے ہمدرد ہوتا ہے اور جو اس سے بڑے ہیں ان سے ادب کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مومن کے دل میں خدا کا ڈر سمایا ہوا ہوتا ہے۔ یہ چیز اس کو اس سے روکتی ہے کہ وہ کسی کو ستائے اور کسی کے ساتھ بے انصافی کرے۔ وہ ہر ایک کو اس کا حق دیتا ہے وہ سخت احتیاط کرتا ہے کہ اس کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے۔ اس کا وجود کسی دوسرے کے اوپر بوجھ بن جائے ۔ وہ کسی کو مصیبت میں دیکھتا ہے تو اس کی مدد کے لئے بے چین ہو جاتا ہے اور اگر وہ مدد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا دل اس کے لئے دعائیں کرنے لگتا ہے۔ اگر وہ اپنے عمل سے کسی کو نہ دے سکے تو وہ اپنے دل اور اپنی زبان سے اس کو وہ بہترین چیز دیتا ہے جو وہ اسے دے سکتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کی نگرانی میں سمجھے، جو یہ سمجھ کر زندگی گزارے کہ اس کو اپنے ہر قول و فعل کا جواب خدا کو دینا ہے۔ جو کمتر درجے کے معاملہ میں شریرت نہ بنے کیونکہ ہر کمزور کے ساتھ اس کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ جو طاقت ور سے مرعوب نہ ہو، کیونکہ بالا آخر ہر ایک خدا کے آگے بے طاقت ہو جانے والا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page