ربانی انسان
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
شیر دیکھ رہا ہے جم کاربٹ (Jim Corbett) ایک انگریز تھا۔ وہ ۱۹۰۷ء میں ہندوستان آیا۔ اس کو معلوم ہوا کہ کما یوں (یوپی) کے جنگلوں میں بہت سے مردم خور شیر ہیں، وہ اپنی رائفل لے کر کما یوں کے جنگل میں پہنچ گیا۔ ۱۹۰۷ء میں اس نے پہلے مردم خور شیر کو اپنی گولی کا نشانہ بنایا جو ۳۴ آدمیوں کو مار کھا چکا تھا۔ جم کاربٹ نے کما یوں کے جنگلوں میں ۲۲ سال گزارے۔ اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ایک درجن سے زیادہ مردم خور شیروں کو ہلاک کیا۔ اس جان جوکھم کام کا واحد انعام ، جم کاربٹ کی یہ روحانی تسکین تھی کہ وہ زمین کے ایک چھوٹے سے حصہ کو اس قابل بنائے کہ ایک لڑکی محفوظ طور پر وہاں چل سکے : Satisfaction at having made a small portion of the جم کاربٹ نے اپنی کتاب کمایوں کے مردم خور شیر (Man-eaters of Kumaon) میں اپنے ان تجربات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جو مردم خور شیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے پیش آئے۔ ایک موقع پر اس نے لکھا ہے کہ دن کی روشنی میں بھی شیر کی قربت ، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے آپ کو دیکھا نہ ہو، خون کی گردش میں ہیجان پیدا کر دیتی ہے۔ پھر جب شیر ایک عام شیر نہ ہو، بلکہ وہ مردم خور شیر ہو، تاریک رات کے ۱۰ بجے ہوں، اور آپ جانتے ہوں کہ مردم خور شیر آپ کو دیکھ رہا ہے، اس وقت خون کی گردش ایک طوفان کی صورت اختیار کر لیتی ہے : The near proximity of a tiger in daylight, even when it has not seen you, یہ احساس کہ شیر میرے قریب ہے اور وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے ، آدمی کے خون میں طوفان برپا کر دیتا ہے۔ پھر اس انسان کا کیا حال ہو گا جس کے اندر یہ یقین آ جائے کہ وہ خدا جو تمام شیروں کا اور تمام زمین و آسمان کا خالق ہے، وہ میرے قریب ہے اور مجھ کو اس طرح دیکھ رہا ہے کہ میری کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader