الربَّانِيَّةُ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کیا ہے دنیا تعمیر حیات کی جگہ نہیں ، دنیا امتحان حیات کی جگہ ہے ۔ یہی ایک لفظ میں اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ اللہ نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس نے دو دنیائیں بنائیں ۔ ایک، موجودہ دنیا۔ اور دوسری، موت کے بعد سامنے آنے والی دنیا ۔ اللہ نے موجودہ دنیا کو انسان کے لیے عارضی قیام گاہ بنایا جہاں اس کا امتحان لیا جائے ۔ اور اگلی دنیا کو انسان کی ابدی قیام گاہ بنایا جہاں وہ ہر قسم کی خوشیوں اور راحتوں کے ساتھ زندگی گزارے ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی حالت امتحان میں ہے ۔ موجودہ دنیا منزل نہیں ہے ، وہ صرف راستہ ہے ۔ جو لوگ آج کی زندگی میں اپنے امتحان میں پورے اتریں ، وہ موت کے بعد ابدی جنتیوں میں جگہ پائیں گے ۔ اور جو لوگ اس دنیوی امتحان میں پورے نہ اتریں ، وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ یہ امتحان کیا ہے۔ یہ آزادی کے استعمال کا امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان آزاد ہے۔ مگر یہ آزادی انسان کا حق نہیں، وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہے۔ اسی پرچہ کے حل پر اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ انسان کو آزادی دے کر اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون آزادی کا غلط استعمال ۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی عبودیت اور اللہ کی معبودیت کا اعتراف کرے ۔ وہ سرکشی کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کی ماتحتی میں دیدے۔ جو آدمی اس طرح اللہ والا بن جائے ، اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ وہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے۔ وہ بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ وہ انانیت کا طریقہ چھوڑ کر تواضع کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ عام انسان کی زندگی دنیا پسند زندگی ہوتی ہے۔ مگر اللہ پر ایمان لانے والے کی زندگی آخرت پسند زندگی بن جاتی ہے۔ عام انسان اپنی ذات کے لیے جیتا ہے ۔ مومن انسان وہ ہے جو اللہ رب العالمین کے لیے جینے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader