چھوڑنے کے لیے
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑنے کے لیے برطانوی دورِ حکومت میں ہندوستان کا دارالسلطنت کلکتہ تھا۔ 1911 میں برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ دارالسلطنت کو کلکتہ سے دہلی منتقل کر دیا جائے۔ انگریز ماہرِ تعمیرات سر ایڈون لیونٹس (1944-1869) نے نئے دارالسلطنت کا نقشہ بنایا۔ 1913 میں پرانی دہلی کے جنوب میں رائے سینا پہاڑیوں کے علاقہ میں تعمیرات شروع ہوئیں۔ بالآخر وہ عالی شان آبادی وجود میں آئی جس کو نئی دہلی کہا جاتا ہے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ ساری دنیا میں ایک نئی سیاسی لہر آچکی تھی۔ یہ قومی تحریکوں کی لہر تھی۔ سیاسی افکار کی دنیا میں نئے انقلابات نے نو آبادیاتی نظام کا جواز ختم کر دیا تھا۔ ہندوستان میں آزادی کی تحریک تیزی سے جڑ پکڑ رہی تھی۔ بظاہر یہ بات کھل چکی تھی کہ ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت اب زیادہ دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔ نئی دہلی کی تعمیر کے بعد اسی زمانہ میں فرانس کے ایک لیڈر نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ جب وہ نئی دہلی آئے اور یہاں نیا تعمیر شدہ عظیم دارالسلطنت دیکھا تو انھوں نے اس پر اظہارِ رائے کرتے ہوئے کہا۔ "انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے، صرف اس لیے کہ وہ اسے چھوڑ دیں: What a magnificent world they built to leave یہ کہانی صرف برطانیہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ یہاں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ آرزوؤں اور تمناؤں کو لیے ہوئے دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ اپنی تمام قوتوں کا استعمال کر کے وہ اپنا ایک شاندار گھر بناتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ اس کی آرزوؤں کا گھر بن کر مکمل ہوتا ہے، اچانک موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور اس کو اس کی محنتوں سے بنائی ہوئی دنیا سے جدا کر کے وہاں پہنچا دیتا ہے جس کو آرتھر کوئسلر (1983-1905) نے نامعلوم ملک (Unknown Country) کا نام دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader