امن عالم
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
(جانور کے اوپر طاقت سے زیادہ لادنا) ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: بَذَلَ جُھْدَهُ (اس نے اپنی پوری طاقت صرف کی) ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: لَأُبْلِغَنَّ جُھَيْدَايَ فِي ھَذَا الأَمْر (میں معاملہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا) ۔ جہاد یا مجاہدہ کا مفہوم بھی یہی ہے۔ قرآن میں آیا ہے: وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ (22:78) ۔ یعنی اللہ کے راستہ میں پوری کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ جھد کے معنی مبالغہ آمیز کوشش کے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے: جَھَدْتُ جُھْدِي وَاجْتَهَدْتُ رَأْيِي وَنَفْسِي حَتَّى بَلَغْتُ مَجْهُودِي (میں نے ہر طرح اپنی پوری کوشش کی یہاں تک کہ میں اپنی آخری کوشش تک پہنچ گیا) ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: جَهَدَ الرَّجُلُ فِي كَذَا أَيْ جَدَّ فِيهِ وَبَالَغَ ۔ (آدمی نے معاملے میں کوشش کی اور اپنی پوری کوشش کر ڈالی) جہاد یا اجتہاد کا مطلب ہے: بَذَلَ الْوُسْعَ فِي طَلَبِ الأَمْر (کسی کام میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا) لسان العرب، جلد 3، ص 135۔ حالات کی نسبت سے کبھی جہاد یا جد و جہد کا یہ عمل دشمنوں سے مقابلہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت، باعتبار استعمال نہ کہ باعتبار لغت، اس میں محاربہ کا مفہوم بھی شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ امام راغب اصفہانی نے استعمال کی نسبت سے جہاد کی تین قسمیں بتائی ہیں: ظاہری دشمن سے مقابلہ اور شیطان سے مقابلہ اور نفس سے مقابلہ (الجہاد ثلاثة اضرب: مجاهدة العدو الظاہر، ومجاهدة الشيطان، ومجاهدة النفس) المفردات في غريب القرآن، ص 208۔ جہاد قرآن میں قرآن میں بھی جہاد یا اس کے مشتقات اسی معنی میں آئے ہیں جس معنی میں وہ لغتِ عرب میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی کسی مقصد کے لیے مبالغہ آمیز کوشش کرنا۔ لفظ ’جھاد‘ قرآن میں چار بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ یہ لفظ کوشش اور جد و جہد کے معنی میں ہے، نہ کہ براہِ راست طور پر جنگ و قتال کے معنی میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader