امن عالم
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
کھلتا ہے۔ امن ہر کام کی کامیابی کے لیے موافق ماحول بناتا ہے۔ امن کے ساتھ ہر کام کیا جاسکتا ہے۔ اور امن کے بغیر کسی بھی کام کو کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات چھوٹے معاملات کے لیے بھی درست ہے اور بڑے معاملات کے لیے بھی۔ کائنات کا مذہب امن ہے قرآن کی سورہ یس میں ارشاد ہوا ہے : لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (36:40)۔ یعنی نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک مدار (orbit) میں تیررہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ایک فلکیاتی واقعہ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ دنیا کا نظام کس اصول پر قائم ہے۔ وہ امن کا اصول ہے۔ کائنات کے اندر ان گنت چیزیں ہیں۔ یہاں کی ہر چیز مسلسل حرکت میں ہے۔ مگر کسی چیز کا دوسری چیز سے ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ کائنات کا ہر جزء اپنے اپنے دائرہ میں اپنا عمل انجام دیتا ہے۔ یہاں کا کوئی جزء کسی دوسرے جزء کے دائرہ کار میں داخل نہیں ہوتا۔ اس لیے ایک کا دوسرے سے ٹکراؤ بھی نہیں ہوتا۔ یہی امن کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو بھی یہی کرنا ہے کہ وہ کائنات کے اس ہمہ گیر اصول کو اپنی زندگی میں اپنا لے، وہ بھی ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر امن کے راستہ پر چلنے لگے۔ کائنات کا کلچر امن کلچر ہے۔ اسی امن کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات اربوں سال سے چل رہی ہے مگر اس میں کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آیا جو اس کے نظام میں خلل ڈال دے۔ کائنات میں اگر تشدد کلچر کا رواج ہوتا تو اب تک کائنات آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو چکی ہوتی۔ وہ ہمارے لیے قابل رہائش دنیا کے طور پر موجود ہی نہ ہوتی۔ جس خالق نے کائنات کو پیدا کیا ہے اُسی نے انسان کو بھی پیدا کیا ہے۔ خالق کو مطلوب ہے کہ اُس نے وسیع تر کائنات میں جو امن کلچر قائم کر رکھا ہے، انسان بھی اُسی امن کلچر کو اپنائے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ یہ امن کلچر بقیہ کائنات میں فطرت کے زور پر قائم ہے۔ انسان ایک آزاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader