Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بھی وہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کا منصوبہ موجودہ دنیا کے بارے میں کیا ہے۔ یہ منصوبہ امن کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی ایک فریق لڑائی کی آگ بھڑکانے پر آمادہ ہو تو دوسرے فریق کو چاہیے کہ وہ پرامن تدبیر سے اُس کو بجھا دے تا کہ تشدد کی آگ پھیلنے نہ پائے۔ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایک فریق اگر بم مارے تو دوسرا فریق جوابی بم سے اُس کا مقابلہ کرے۔ خدا کی اس زمین پر جینے کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایک بم کے اوپر دوسرا بم مارا جائے۔ صحیح اور مطلوب طریقہ یہ ہے کہ بم کو ناکارہ (defuse) کر دیا جائے۔ یہ خدائی اعلان بتاتا ہے کہ ایک بم کے اوپر دوسرا بم مارنا شیطان کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ بم کو غیر مؤثر بنا دیا جائے، بم کو اُس کے پہلے ہی مرحلہ میں ناکارہ کر دیا جائے تا کہ امن کا ماحول بگڑنے سے بچ جائے۔ سماج میں ناخوش گوار حالات کا پیش آنا بالکل فطری ہے۔ کوئی انسانی سماج ناخوش گوار باتوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا اصل حل یہ نہیں ہے کہ خود ناخوش گواری کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ اس مسئلہ کا اصل حل یہ ہے کہ ایک ناخوش گواری پر دوسری ناخوش گواری کا اضافہ نہ کیا جائے۔ ایک بم کے اوپر دوسرا بم نہ مارا جائے۔ اس طرح ناخوش گواری کو پھیلنے سے روک کر اُس کو ختم کر دیا جائے۔ یہی اس مسئلہ کا حل ہے، اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی دوسرا حل ممکن نہیں۔ اصلاح کے بعد فساد قرآن کی سورہ الاعراف میں ارشاد ہوا ہے: ﴿وَلا تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (7:85)۔ یعنی زمین میں بگاڑ پیدا نہ کرو، بعد اس کے کہ اُس کی اصلاح کی جا چکی ہو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ قرآن کی اس آیت میں ایک فطری حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ زمین جس پر انسان آباد ہے وہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ یہاں کی ہر چیز اپنے مطلوب نقشہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page