Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف چلی آتی ہے۔ بیشتر حالات میں ناکامی اُن لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جو جلد بازی سے کام لیں اور قبل از وقت پر جوش اقدام کر بیٹھیں۔ اس کے برعکس جو لوگ صبر کا طریقہ اختیار کریں اُن کے لیے ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اُن کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیں۔ قرآن کے مطابق صبر کا اُلٹا عجلت ہے (الاحقاف، 46: 35)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص صبر کی روش اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ عجلت کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ سے ہٹ جاتا ہے اور جو آدمی فطرت کے نقشہ سے ہٹ جائے اُس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ نزاع نہیں قرآن کی سورہ الحج میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے: فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ (22:67) یعنی وہ تم سے امر میں ہر گز نزاع نہ کریں اور لوگوں کو تم اپنے رب کی طرف بُلاؤ۔ اس آیت میں نزاع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم انہیں نزاع کا موقع نہ دو (قال الزجاج معنی قوله فلا ينازعنك لا تنازعهم) (التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ 346۔ یعنی جب بھی تمہارے اور فریق ثانی کے درمیان کوئی اختلافی بات پیش آئے تو اُس کو پُر امن بات چیت کے دائرہ میں محدود رکھو۔ ایسا ہر گز نہ ہونے دو کہ اختلاف اپنی ابتدائی حد سے گزر کر عملی نزاع بن جائے۔ اور متشددانہ مقابلہ آرائی کی نوبت آجائے۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بات پر دو فریقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تناؤ بذات خود ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر مقام پر پیدا ہوگا۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اس تناؤ یا اس اختلاف کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اختلاف کا امن کے دائرہ میں رہنا اُس کا حد کے اندر رہنا ہے۔ اختلاف کا عملی ٹکراؤ یا تشدد کے دائرہ میں پہنچ جانا اُس کا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد کے اندر کوئی بھی اختلاف بُرا نہیں، مگر حد کے باہر چلے جانے کے بعد ہر اختلاف بُرا بن جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page