Urdu book · عقلیات اسلام

مذھب کے دروازہ پر

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ منکرانہ نقطہ نظر پوری گزشتہ صدی میں سائنسی خیالات پر چھایا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید میں علوم فطرت کے مطالعہ نے انسان کو مذہب کے دروازہ پر پہنچا دیا ہے۔ مگر جدید انسان جس کی پرورش عیسائی روایات میں ہوئی ہے وہ اپنی مخصوص تاریخ کی وجہ سے مذہب کے دروازے میں داخل ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔ ”مذہب“ کا تصور آتے ہی اس کو سولہویں اور سترہویں صدی کے وہ مظالم یاد آنے لگتے ہیں جب کہ یورپ میں سائنس کا آغاز ہوا اور عیسائی مذہب اس کو کچلنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ یہ جدید انسان مذہب کے نام سے صرف عیسائیت کو جانتا ہے اور عیسائیت اس کے نزدیک ایسے بے معنی عقائد کا مجموعہ ہے جس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ علم کا سامنا کر سکے۔ سر فرڈ ہائل نے اپنی مذکورہ کتاب ذہین کائنات (The Intelligent Universe) میں لکھا ہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں پختہ مذہبی فکر نے یہ کیا کہ زمین کی پوری تاریخ کو بائبل کی روشنی میں چند ہزار سال کے اندر محدود کر دیا۔ اس نقطہ نظر کی واضح غلطی پہلی بار جیمس ہیوٹن (1797-1726ء) کی تحقیقات سے ظاہر ہوئی جو پختہ مذہبی لوگوں کے سخت خلاف تھی اور اب بھی وہ ان کے سخت خلاف ہے۔ جیمس ہیوٹن نے اپنی ساری عمر زمین اور چٹانوں کے مطالعہ میں گزاری۔ اس کی تحقیقات نے بتایا کہ پہاڑوں اور وادیوں کے بننے میں کروڑوں سال لگے ہیں۔ عظیم ارضیات داں چارلس لائل (1875-1797ء) کی تحقیقات نے ہیوٹن کے نتائج کو مزید موکد کیا۔ لائل کی کتاب ارضیات کے اصول (Principles of Geology) 1830ء میں چھپی۔ یہ کتاب سب سے بڑی وجہ تھی جس نے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ زمین کی عمر کے بارے میں بائبل کا بیان غلط ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ سنجیدہ غور و فکر میں اس کا حوالہ دیا جا سکے (صفحہ 29-28)۔ زمین کی عمر (اور اس طرح دوسری چیزوں کے بارے میں بائبل غیر معتبر ثابت ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page