Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب کی طرف یہ واپسی حقیقتاً فطرت کی طرف واپسی ہے۔ یعنی اس خدا کی طرف واپسی جس کا احساس اس کی فطرت میں پیوست ہے نہ کہ اس خدا کی طرف جس کی نمائندگی وہ اپنے موروثی مذہب میں پا رہا ہے۔ ہارورڈ لا اسکول کے پروفیسر آلن ڈرشووڈ نے کہا کہ یہ بڑی عجیب چیز ہے کہ میری نسل مذہب کی طرف واپس آئے۔ ہم وہ نسل ہیں جس کو ہر قسم کی آزادی اور ہر طرح کی چھوٹ حاصل تھی مگر ہمیں یہ تجربہ ہوا کہ اس آزادی کا کوئی جڑ نہیں۔ یہی بے جڑ ہونے کا احساس ہے جس نے اکثر دانشوروں کو دوبارہ مذہب کی طرف لایا ہے۔ ایک دوسرے پروفیسر مسٹر کولس نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا میں عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں روحانیت کی تلاش میں ہوں نہ کہ کسی خاص مذہب کو ماننے والا۔ میری زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جبکہ میں ٹھہر جاتا ہوں اور خدا کو پکارنے لگتا ہوں۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ وہ خدا کون ہے اور اس کی صورت کیا ہے تو میں تردد میں پڑ جاؤں گا۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں انتشار ذہنی کا شکار ہوں۔ اگر چہ میں نہیں چاہتا کہ ذہنی انتشار میری زندگی پر پوری طرح چھا جائے۔ تبصرہ یہ صورت حال جو غیر مسلم اقوام میں پیدا ہوئی ہے یہی خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بھی دین کی طرف از سرِ نو رجوع پیدا ہوا ہے، مگر اس رجوع کا تعلق کسی عہد ساز مفکر یا کسی خدا رسیدہ بزرگ سے نہیں ہے، یہ تمام تر ایک زمانی مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر قوم میں یکساں طور پر پیدا ہوا ہے۔ مسلمان، ہندو،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page