سائنس توحید کی طرف
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس توحید کی طرف علم طسعیات میں ، نیوٹن کے بعد سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ چار قسم کے قوانین یا طاقتیں ہیں جو فطرت کے مختلف مظاہر کو کنٹرول کرتی ہیں: 1- قوت کشش (gravitational force) 2- برقی مقناطیسی قوت (electromagnetic force) 3- طاقتور نیو کلیئر قوت (strong nuclear force) 4- کمزور نیوکلیئر قوت (weak nuclear force) کشش کا قانون، ایک کہانی کے مطابق، نیوٹن نے اس وقت معلوم کیا جبکہ اس نے سیب کے درخت سے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا۔"سیب اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا، نیچے زمین پر کیوں آیا۔ اس سوال نے اس کو اس جواب تک پہنچایا کہ زمین میں اور اسی طرح تمام دوسرے سیّاروں میں، جذب وکشش کی قوت کارفرما ہے۔ بعد کو آئن سٹائن نے اس نظریہ میں بعض فنی اصلاحات کیں۔ تاہم اصل نظریہ اب بھی سائنس میں ایک مسلمہ اصول فطرت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ برقی مقناطیسی قانون کا تجربہ پہلی بار فریڈے نے 1821ء میں کیا۔ اس نے دکھایا کہ بجلی کی قوت اور مقناطیس کی قوت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ مقناطیس اور حرکت کو یکجا کیا جائے تو بجلی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور مقناطیس اور بجلی کی لہر کو یکجا کریں تو حرکت وجود میں آجاتی ہے (6 جنوری 1980ء)۔ ابتدائی 50 سال تک تمام طبعی واقعات کی توجیہہ کے لیے مذکورہ دو قوانین کافی سمجھے جاتے تھے مگر موجودہ صدی کے آغاز میں جب ایٹم کے اندرونی ڈھانچہ کی بابت معلومات میں اضافہ ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات ہیں جو ایٹم کے اندر کام کر رہے ہیں تو طبعی نظریات میں تبدیلی شروع ہوگئی۔ یہیں سے طاقتور نیوکلیئر فورس اور کمزور نیوکلیئر فورس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader