ایک واقعہ دو انجام
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ ہمارے علوم کو سیکھ کر ہمیں شکست دے اور اس کے برعکس ہم مغرب کے علوم کو سیکھ کر صرف مغرب کے بھونڈے نقال بن کر رہ جائیں۔ مصطفی کمال کی تحریک کا آخری نشانہ یہ تھا کہ ترک قوم ہیٹ اور پتلون پہنے لگے۔ اور سرسید کا منتہائے نظریہ تھا کہ مسلم نوجوان مغربی ادبیات میں کمال حاصل کر لیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے ذہن کے تحت مغرب کی طرف بڑھنے کا وہی نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا جو عملاً برآمد ہوا۔ یہ تاریخ جہاں ایک طرف ہماری غلطی کو بتاتی ہے وہیں اس کے اندر اس کا بھی نشان ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہمیں وہی کرنا چاہیے جو مغربی قوموں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مغربی علوم کو اس لیے سیکھنا تا کہ اس کے ذریعہ مغربی تہذیب کو شکست دے کر اسلام کو غالب کیا جائے ۔ اگر ہمارے اندر یہ ذہن پیدا ہو جائے تو وہی نتیجہ برعکس شکل میں ظاہر ہوگا جو مغربی قوموں کے لیے ہمارے مقابلے میں ظاہر ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader