Urdu book · عقلیات اسلام

کھال بولے گی

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

کھال بولے گی ڈاکٹر آرلین کارنی (Arlene Carney) امریکا کی الیوناﺋز یونیورسٹی میں سمعیات کے ماہر ہیں۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ انسان کے گردو پیش جو آوازیں بلند ہوتی ہیں وہ انسان کی کھال پر اسی طرح نقش ہوتی رہتی ہیں جس طرح ریکارڈ کے اوپر آواز نقش ہو جاتی ہے۔ پروفیسر موصوف نے تجربات کے بعد بتایا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعہ کھال پر منقوش لہروں کو دہرایا جا سکتا ہے ٹھیک اسی طرح جیسے ریکارڈ کی آواز کو گراموفون میں دہرایا جاتا ہے۔ (الرسالہ انگریزی، دسمبر 1984، صفحہ 22) پروفیسر موصوف نے اس کو کھال کی آواز (skin speech) کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے کان کا پردہ خراب ہو گیا ہو اور وہ آوازوں کو صحیح طور پر پکڑ نہ پاتے ہوں وہ مخصوص الیکٹرانک آلات کے ذریعہ اپنی کھال کو اپنے کان کا بدل بنا سکتے ہیں اور کھال پر مرتسم آواز کی لہروں کے ذریعہ اسی طرح بات کو سن سکتے ہیں جس طرح کان کے ذریعے کوئی شخص سنتا ہے (ٹائمز آف انڈیا، 30 مئی 1984ء)۔ اس تحقیق کو سامنے رکھیے اور پھر قرآن کی سورہ حم السجدہ کی ان آیتوں کو پڑھیے جن میں بتایا گیا ہے کہ : " اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف لائے جائیں گے۔ پھر جب وہ آ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں سب ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ وہ لوگ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی۔ وہ جواب دیں گی کہ اللہ نے ہم کو گویائی دی ہے جس طرح اس نے ہر چیز کو گویائی دی ہے۔ اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور تم دنیا میں اپنے آپ کو اس سے چھپا نہ سکتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page