خفیہ تصویر کشی
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
شہادت پر عمل میں آئی۔ مذکورہ گاڑیاں سڑک پر تیزی سے گزرتی ہوئی دیکھنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو چکی تھیں۔ مگر کیمرہ میں ان کی مکمل تصویر پوری طرح محفوظ تھی۔ ان تصویروں کے ذریعہ انھیں با آسانی شناخت کر لیا گیا۔ کیوں کہ ان کیمروں نے عین جرم کے موقع پر ان کی تصویریں لے لی تھیں۔ ان کاروں کے ڈرائیور ناٹنگھم شائر پولیس کی ایک خاص اسکیم کے تحت پکڑے گئے۔ اس اسکیم کے مطابق شہر کے دو مصروف چوراہوں پر مخصوص کیمرے نصب کر دیے گئے تھے۔ یہ کیمرے کمپیوٹر سے جڑے ہوئے تھے اور ان کے زیر اثر کام کر رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مذکورہ چوراہبہ پر سڑک کی سطح کے نیچے خاص طرح کے حساس تار رکھ دیے گئے تھے۔ کوئی گاڑی جب اس تار کے اوپر سے گزرتی تو عین اسی وقت اس سے جڑے ہوئے کیمرے متحرک ہو جاتے۔ وہ سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں فورا مذکورہ گاڑی کا فوٹو لیتے۔ سڑک کے نیچے بچھبے ہوئے ان تاروں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہ مذکورہ کیمروں کو عین اس وقت متحرک کر دیتے تھے جب کہ سڑک کی بتی لال ہوگئی ہو۔ اب یہ کیمرے خود کار نظام کے تحت گزرنے والی گاڑی کا فوٹو لے لیتے۔ مزید یہ کہ وہ ایسے زاویہ سے گاڑی کا فوٹو لیتے تھے کہ اس کار جسٹریشن نمبر بھی پوری طرح فوٹو میں آ جائے۔ ان کیمروں کی شہادت اتنی قطعی اور اتنی مسلّم تھی کہ ماخوذ افراد کے لیے ان کو غلط ثابت کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ سٹی مجسٹریٹ نے انھیں کی شہادت کی بنیاد پر مس الیسن مارٹن پر 100 پونڈ کا جرمانہ کیا۔ اس خاتون نے ایک ہی دن میں دو جگہ اپنی گاڑی لال بتی پر دوڑا دی تھی۔ اسی طرح دوسرے کئی ڈرائیوروں پر مختلف جرمانے لگائے گئے۔ یہ تمام عدالتی سزائیں انھیں کمپیوٹر کیمروں کی لی ہوئی تصویروں کی بنیاد پر دی گئیں جنھوں نے دو سیکنڈ اور ایک سیکنڈ تک کی خلاف ورزی کو نہایت صحت کے ساتھ ریکارڈ کر لیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader