عقلیات اسلام
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
کیمیائی اتفاق سے اچانک زندگی کا شروع ہونا اس قدر زیادہ بعید بات ہے کہ وہ بالکل لغو معلوم ہوتا ہے۔ یہ سوچنا بالکل معقول ہے کہ طبیعیات کے وہ اوصاف جن پر زندگی کا انحصار ہے وہ ہر اعتبار سے ارادی ہیں۔ وکرما سنگھی لکھتے ہیں ”سر فریڈ ہائل مجھ سے زیادہ برتر خالق کی طرف مائل تھے۔ میں اکثر اس کے خلاف ان سے بحث کرتا تھا۔ مگر میں نے پایا کہ میں استدلال کی تمام بنیادیں کھورہا ہوں۔ اس وقت میں کوئی بھی عقلی دلیل نہیں پاتا جس سے میں خدا کے نظریہ کو باطل ثابت کر سکوں۔ اگر میں کوئی دلیل پاتا، خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو تو میں اس کتاب کے لکھنے میں فریڈ کا شریک کار نہ بنتا۔ اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ زندگی کے بارے میں واحد منطقی جواب یہی ہے کہ وہ تخلیق ہے، نہ کہ کوئی ال ٹپ قسم کا الٹ پھیر۔ میں اب بھی اس امید پر ہوں کہ کسی دن میں دوبارہ خالص مشینی توجیہ پیش کر سکوں۔ ہم بحیثیت سائنس داں اس امید میں تھے کہ ہم کوئی راستہ پالیں گے، مگر موجودہ تحقیقی نتائج کے مطابق اس کی کوئی صورت نہیں۔ منطق اب بھی مایوسانہ طور پر اس کے خلاف ہے۔ میں ایک بدھسٹ ہوں۔ اگرچہ کوئی پر جوش نہیں۔ اس اعتبار سے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہ تھا۔ کیوں کہ بدھزم ایک بے خدا مذہب ہے جو اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ تخلیق کے بارے میں کچھ جانتا ہے۔ بدھزم کے نظام میں خالق کا کوئی وجود نہیں۔ مگر اب میں پا تا ہوں کہ میں منطق کے ذریعہ اسی مقام پر پہنچا دیا گیا ہوں۔ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ مخصوص کیمیائی مادوں میں وہ حد درجہ درست نظام کیوں کر پایا جاتا ہے جس سے کائناتی سطح پر تخلیقات کا ظہور ہو (ہندوستان ٹائمس، 6 ستمبر 1981ء)۔ تبصره پچھلی صدیوں میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ خدا کا وجود محض ایک ذاتی عقیدہ کی چیز ہے۔ اس کا علمی طرزِ فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر دوسری جنگِ عظیم کے بعد مسلسل ایسے شواہد مل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader