بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ترقی کا راز بر داشت ہے نہ کہ اشتعال۔ ۳۱ جنوری کی شام کو مسٹر مدھو مہتا کے مکان پر ان کے ساتھ کھانا کھارہا تھا۔ اس دوران انھوں نے کئی دلچسپ باتیں سنائیں۔ سردار پٹیل کے سکریٹری نے ایک بار انہیں بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب پاکستان سے ریفیوجی بڑی تعداد میں دہلی آئے تو وہ چاندنی چوچ کے علاقہ میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور وہاں سامان رکھ کر بیچنے لگے۔ اس کے بعد چاندنی چوچ کے دکانداروں کا ایک وفد سردار پٹیل سے ملا جو اس وقت ہوم منسٹر تھے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ان شرر نارتھیوں نے جب سے آکر فٹ پاتھ پر کاروبار شروع کیا ہے ، ہمارا بزنس ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے ان شرر نارتھیوں کو یہاں سے ہٹائیے۔ سردار پٹیل ان تاجروں کی بات چپ چاپ سنتے رہے۔ جب انھوں نے اپنی بات ختم کی تو سردار پٹیل نے پر سکون لہجہ میں کہا: اس کا حل بہت آسان ہے۔ آپ لوگ دکان چھوڑ کر فٹ پاتھ پر آجائیے اور فٹ پاتھ والوں کو دکان میں بٹھادیجئے۔ اس کے بعد تمام دکاندار خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے —۔ سردار پٹیل کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ایڈمنسٹریشن چلانے کے لئے کس قسم کی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسٹر مدھو مہتا نے بتایا کہ ۱۹۴۶ میں جب پنجاب اور بنگال میں فرقہ وارانہ فساد ہو رہا تھا۔ پولیس اور فوج اس کو کنٹرول کرنے سے عاجز ہو گئی تھی۔ اس وقت گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن برلا ہاؤس ، دہلی گئے اور مہاتما گاندھی سے ملے۔ انھوں نے گاندھی جی سے کہا کہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے، اور میری فورس اس کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ہی اس کوروک سکتے ہیں۔ آپ میری واحد نفری فوج ہیں: You are my one-man army. ممبئی میں ایک انگریزی جرنلسٹ مسٹر الوین فرینڈ یز سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ممبئی کے لوگ مسٹر مدھو مہتا کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ غیر مقبول کاموں کے چیمپین ہیں : Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader