بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل کرتے ہیں ۔ اور اخبارات کا یہ حال ہے کہ ان کو صرف " ہاٹ نیوز" سے دلچسپی ہے ۔ انہیں سماج میں پیش آنے والے ہزاروں مثبت واقعات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ البتہ کوئی ایک منفی واقعہ پیش آجائے تو اس کو وہ مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ اس طرح آج کا آدمی خود اپنے سماج کے بارے میں بہت ناقص واقفیت حاصل کر پاتا ہے ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کا بڑا سبب یہی ہے ۔ ہندوؤں کو اپنے اخباروں میں اکثر وہی مسلم خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں جو ہاٹ نیوز کے قبیل کی ہوتی ہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں کے اخبارات بھی ان کو ہندوؤں کے بارہ میں صرف وہی خبریں بناتے ہیں جن کو لال رنگ کی خون آلود سرخیوں میں چھاپا جاسکتا ہو ۔ ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں زرد صحافت پائی جاتی ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ زرد صحافت نہیں بلکہ یہ مجرمانہ صحافت ہے اور اسی صحافت نے دونوں فرقوں کے درمیان تعلقات کو غیر معتدل بنا رکھا ہے ۔ راستہ میں چار ندیاں تھیں جن کے اوپر سے پل کے ذریعہ ہماری بس گزری ۔ ندی گویا قدرتی واٹر سپلائی کا نظام ہے جو نا معلوم مدت سے جاری ہے ۔ یہ واٹر سپلائی ایک آفاقی نظام کے تحت ممکن ہوتی ہے ۔ بارش کے موسم میں جب بارش ہوتی ہے تو وہ وقتی طور پر ندیوں کو بھر دیتی ہے ۔ مگر وہ پورے سال کی واٹر سپلائی کے لیے کافی نہیں ۔ چنانچہ قدرت کے نظام کے تحت پانی کا ایک حصہ پہاڑوں کے اوپر برف کی صورت میں جم کر ٹھہر جاتا ہے ۔ ٹھنڈے موسم میں دریا کے اندر پانی اپنے آپ رہتا ہے ۔ گرم موسم میں دریا کا پانی بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اس وقت پہاڑ کی برف پگھل کر چشموں کی صورت میں بہنا شروع ہوتی ہے ۔ اس طرح ان پہاڑی چشموں کے ذریعہ دوبارہ ہماری دریاؤں میں پانی کی روانی جاری رہتی ہے ۔ راستہ میں سڑک کے کنارے چند مسجدیں بھی نظر آئیں ۔ مگر یہ مسجدیں زیادہ شاندار نہ تھیں۔ البتہ لاؤڈ اسپیکر ضرور ہر ایک کے اوپر لگا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں لاؤڈ اسپیکر مسجدوں کے لیے ایک ضروری جز سمجھ لیا گیا ہے ۔ حالانکہ ۱۹۴۰ سے پہلے جب پہلی بار لاؤڈ اسپیکر مارکیٹ میں آیا تو مسلم علماء کو اسے مسجد میں استعمال کرنے میں سخت تردد تھا۔ حتیٰ کہ بعض علماء نے کہا کہ اس کی آواز مشن کی آواز ہے۔ اس لیے اس کا استعمال مسجد کے اعمال کے لیے جائز نہیں ۔ ایک حدیث میں آنے والے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ بتلایا گیا ہے کہ مسجدوں میں آوازیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader