بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 382
By Maulana Wahiduddin Khan
جا کر معلوم کرو کہ حقیقی صورتِ حال کیا ہے۔ آدمی نے بتایا کہ پولیس افسر کی رپورٹ تو درست ہے۔ البتہ وہ لوگ سخت دھوپ سے پسینہ پسینہ ہو رہے ہیں اور پیاس کی وجہ سے ان کے گلے اتنے سوکھ گئے ہیں کہ نعرہ لگانا بھی ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے ۔ مسٹر چاری نے فوراً اپنے ڈپٹی کلکٹر سے کہا کہ بہت سی بڑی بڑی نامند منگو آؤ اور اس میں ٹھنڈا پانی بھر کر کلکٹریٹ کے سامنے کے میدان میں رکھوا دو۔ اور وہاں پینے کے لئے بہت سے کوزے بھی رکھ دو۔ فوراً اس حکم کی تعمیل کی گئی۔ کچھ دیر کے بعد جب جلوس والے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ٹھنڈا پانی وہاں بڑی مقدار میں موجود ہے۔ تمام لوگ پانی پر ٹوٹ پڑے۔ ہر ایک نے جی بھر کر پانی پیا۔ اس کے بعد اپنے آپ تمام لوگ ٹھنڈے ہو گئے۔ جلوس کے لیڈر کلکٹر صاحب کے دفتر میں آکر ان سے ملے۔ مگر انہوں نے نہ سخت کلامی کی اور نہ کوئی تشدد کیا۔ بلکہ کلکٹر سے معافی مانگ کر ہنستے ہوئے چلے گئے۔ مسٹر چاری نے یہ واقعہ مجھ سے ٹرین میں بیان کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس کو ان کے حوالے سے کانفرنس کی صدارتی تقریر میں دہرایا۔ مسٹر چاری نے بعد کو بتایا کہ کانفرنس کے ایک ڈیلی گیٹ (مسٹر پی این دھر) ان سے پوچھ رہے تھے کہ یہ واقعہ ہے یا افسانہ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین دماغ بھی ثبت انداز میں سوچنے سے کس قدر عاجز ہیں۔ ایک صاحب نے زمانہ کا فرق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریلوے ٹرین ایجاد ہوئی تو کہا جانے لگا کہ تاریخ ٹرین کے ذریعہ سفر کرتی ہے : History travels by train. اب زمانہ کی تیز رفتاری بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ چنانچہ آج کہا جاتا ہے کہ تاریخ فیکس مشینوں کے ذریعہ سفر کرتی ہے : History travels by Fax machines. ایک ہم سفر نے کہا کہ ہم لوگوں کی سوچ زمانہ کی رفتار کے مطابق نہیں۔ ہم نے ہندی زبان کو پہلے نیشنل لینگویج کہا۔ مگر وہ ناکام ہو گیا۔ اب ہم ہندی کو لنگ لیکنگویج کا نام دے رہے ہیں۔ پہلے ہم نے ریجنل زبانوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اب ہندی کو لنگ لیکنگویج کہہ کر ہم ریجنل زبانوں کی اہمیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے اندر دور اندیشی کی کمی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader