بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 388
By Maulana Wahiduddin Khan
کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے اونچے لیڈراس میں شریک ہوئے۔ اس بات چیت میں، برطانی حکومت کی طرف سے جو نقشہ پیش کیا گیا، اس میں مسلمانوں اور اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو برابر کا تناسب دیا گیا تھا: The plan provided for equal proportion of Moslems and Caste Hindus in مگر مسٹر جناح کے انکار کی وجہ سے یہ منصوبہ نہ منظور نہ ہوسکا۔ کیوں کہ برطانیہ کی پالیسی یہ تھی کہ مسلم لیگ کی رضا مندی کے بغیر کوئی منصوبہ نہ طے کرے۔ مسٹر جناح نے ایک اخباری بیان میں کہا: We could settle the Indian problem in ten minutes, if Mr. Gandhi would شملہ میں ہر طرف نیچے اونچے راستے ہیں۔ اس لئے شہر کے اندر مال برداری کا کام جزئی طور پر سواریوں کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ یہاں بے شمار مزدور ہیں جو ہر وقت یہ کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک عجیب منظر بار بار یہ دکھائی دیا کہ ایک مزدور کو کنگ گیس کے دو بھرے ہوئے سلنڈر اپنی پیٹھ پر باندھے ہوئے ہے، اور جھکی ہوئی حالت میں اس کو لے کر چل رہا ہے۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ اس قسم کی پر مشقت مزدوری کرنے والے زیادہ تر کشمیری لوگ نظر آئے۔ ۱۹۸۹ء سے پہلے کشمیر میں سیاحوں کی مسلسل آمد کی وجہ سے کشمیریوں کے لئے روزی کمانا بہت آسان تھا۔ اس کے بعد وہاں سیاحوں کی آمد رک گئی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کشمیری لوگ مجبور ہیں کہ وہ باہر جا کر سخت محنت کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کریں۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان کی مصیبتوں کے اصل ذمہ دار دو ہیں۔ مسٹر محمد علی جناح، اور جواہر لال نہرو۔ مسٹر جناح کی فرقہ وارانہ سیاست نے ملک کو ہندو مسلم نفرت سے بھر دیا۔ پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ہندو ہمارا ازلی دشمن ہے، زیادہ صحیح طور پر انہیں کہنا چاہئے کہ جناح کی تفریقی سیاست نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ازلی طور پر ایک دوسرے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader