بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 418
By Maulana Wahiduddin Khan
جہانہ بڑودہ پہنچا تو یہاں سیمنار کے لوگ رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ چوں کہ میرے ساتھ کوئی سامان نہیں تھا اس لئے ٹھہرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ایئر پورٹ سے مسٹر عظیم صندوق والا کے ساتھ روانگی ہوئی۔ وہ بڑے ایس۔ صندوق والا کے صاحبزادے ہیں اور کمپیوٹر انجینئرنگ کا کورس کر رہے ہیں۔ جب میں بڑودہ کی سڑکوں سے گزر رہا تھا تو یہاں کی ہر چیز مجھے دہلی کے مقابلہ میں پسماندہ نظر آئی۔ پھر میں نے سوچا کہ اسی طرح دہلی ، یورپ اور امریکہ کے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلہ میں پسماندہ محسوس ہوتا ہے۔ ذہن کا مسافر مزید آگے بڑھا تو خیال آیا کہ آدی جب جنت کے شہر میں داخل ہو گا تو وہ پائے گا کہ پیرس اور واشنگٹن بھی مزید اضافہ کے ساتھ جنتی شہر کے مقابلہ میں انتہائی پسماندہ تھے۔ ہماری گاڑی بڑودہ کی مختلف سڑکوں سے گزرتی رہی۔ یہاں تک کہ ہم لوگ اس علاقہ میں پہنچ گئے جس کو فرٹلائزر نگر کہا جاتا ہے۔ یہاں گجرات فرٹیلائزر کا وسیع گیسٹ ہاؤس (Shin Atami Guest House) ہے۔ میرے قیام کا انتظام اس کے اندر کیا گیا تھا۔ لیکن جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو رسیپشن ڈسک پر کوئی موجود نہ تھا۔ صرف سیکورٹی گارڈ کا ایک آدمی پستول لٹکائے ہوئے گھوم رہا تھا۔ عظیم بندوق والا ڈھونڈنے کے لئے نکلے اور کچھ دیر میں ایک آدمی کو لے کر آئے۔ اس نے روم نمبر ۴ ہمارے لئے الاٹ کیا۔ ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری گیسٹ ہاؤس ہے اس لئے یہاں ایسا پیش کیا۔ اگر یہ پرائیویٹ ہوتا تو آپ دیکھتے کہ گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک شخص یہاں آپ کے استقبال کے لئے موجود ہے۔ ایک گفتگو کے دوران ایک "گاندھی بھگت" نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو دیش کے بٹوارہ کے لئے آخر وقت تک راضی نہیں تھے۔ مگہر نہرو اور دوسرے کانگریسی لیڈروں نے دیکھا کہ انگریز مسٹر جناح کے ذریعہ آزادی میں اڑنگا لگائے ہوئے ہے۔ وہ اس اڑنگے کو استعمال کرتا رہے گا اور کبھی ہم کو آزادی نہیں دے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے مر جائیں گے اور بھارت کو اپنے خوابوں کا دیش نہیں بنا سکیں گے۔ اس بنا پر نہرو وغیرہ نے بٹوارہ کو مان لیا تاکہ انگریزوں کے سیاسی قبضہ سے چھٹکارا حاصل کر کے دیش کی تعمیر کی جاسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader