Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 424

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ یہ آغاز نہیں ہے۔ آپ اختتام سے آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ آغاز تو ہمیشہ ابتدا ہی سے ہوتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے لئے ایک ہی نقطۂ آغاز ہے، اور وہ تعلیم ہے۔ ہمارے درمیان جب تک تعلیم عام نہ ہو جائے، کوئی بھی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی بات کرتے ہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی غیرت ملی کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ یہ غیرت ملی کا مسئلہ نہیں، بلک۔ یہ حیثیت ملی کا مسئلہ ہے۔ مسلمان عام معنوں میں کوئی قوم نہیں ہیں۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کی امت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان کو دعوت کا وہ کام انجام دینا ہے جس کے لئے پیغمبر آیا کرتے تھے۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہے نہ کہ ایک قوم اور دوسری قوم کا۔ مسلمان کی یہی حیثیت اس کے اوپر لازم کر دیتی ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں کی زیادتیوں پر صبر کرے۔ اس ملک میں مسلمان پندرہ فیصد ہیں اور غیر مسلم پچاسی فیصد۔ ایسی حالت میں لازماً ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے مسلمانوں کو ناخوشگواری یا زیادتی کا تجربہ ہوگا۔ اس ناخوشگواری یا زیادتی کے مقابلہ میں انہیں دَفْعِ اَذْ اَهَمَّ کے قرآنی اصول پر عمل کرنا ہے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں تو اس کے بعد ان کا امت محمدی ہونا خود ان کی نظر میں غیر متحقق ہو جائے گا۔ جو ماں اپنے بچہ کی باتوں کو برداشت نہ کرے وہ ماں ہی نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا کہ آج کا نوجوان پیچھے کی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ صرف آگے کے بارہ میں سوچتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ ہمارے کتنے نوجوان ایسے ہیں جو سائنٹفک ریسرچ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو آج تک کوئی اسٹوڈنٹ ایس نہیں ملا جو یہ کہے کہ میں اپنی زندگی سائنسی ریسرچ کے لئے وقف کر دوں: My intention is to devout my life in scientific research. میں نے کہا کہ پھر آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ آج کا نوجوان صرف پپیہ یا کیرئیر کے بارہ میں سوچتا ہے۔ یہ آگے کی طرف سوچنا نہیں ہے۔ آگے کی طرف سوچنا یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں ریسرچ کا شوق ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page