Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 443

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ ہم نے اس شہر کو فتح کیا ہے۔ اور اب فتح کی تقریب منانے کے لئے ہم اس حال میں آئے ہیں اور فوجی دستے ہمارے ساتھ ہیں۔ مسٹر نشور تھکر نے اپنے ویلکم ایڈریس میں کہا کہ جو اہر لال نہرو کہتے تھے کہ ہم سب چھوٹے لوگ ہیں جو ایک بڑے کام میں مشغول ہیں: We all are small men engaged in great mission. میں نے سوچا کہ یہ بات تو بڑی اچھی ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ سو سالہ محنت کے باوجود ہماری کوششوں کا رزلٹ کیوں نہیں نکل رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک الٹی جانب سفر کر رہا ہو۔ جسٹس پی این بھاگوتي نے اپنے افتتاحی ایڈریس میں دہرایا کہ نہرو نے کہا تھا کہ اپنی کامیابی کو جانچنا ہو تو ملک کے سب سے چھوٹے آدمی کو دیکھو: ...see the smallest man of India. یہ سیمنار نا گالینڈ گاندھی آشرم کے زیر انتظام منعقد کیا گیا تھا۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا پی این بھاگوتي نے اس کا افتتاح کیا۔ اپنے اختتامی خطاب میں انھوں نے کہا کہ اس علاقہ میں علیحدگی کا جو طاقت ور رجحان پایا جاتا ہے ، اس کا واحد حل یہ ہے کہ مرکز کا اقتدار اسٹیٹ کے اوپر سے کم کیا جائے ۔ غیر مرکزی نظام ہی اس کا واحد حل ہے: the only solution is decentralisation of power. چند اور تقریریں ہوئیں۔ مقامی انگلش اخبار کے ایڈیٹر ڈاکٹر بزبورو (D. N. Bezboruah) نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ہمارے ملک میں کوئی معجزہ ہونے والا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کا آدمی صرف اپنے حقوق کو جانتا ہے۔ اس کو ملک کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کا پتہ نہیں : No miracle was going to happen in the 21st century in the country. This was due to our obsession with our rights rather than duties to our country. افتتاحی اجلاس ۳ جنوری کو را ہندر بھون میں ہوا تھا۔ بقیہ تمام اجلاس ہوٹل برہم پترا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page