بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 506
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر چہ سر دھنہ ابھی بہت دور ہے۔ تاہم ہندوستان کے دوسرے قصبات کے مقابلہ میں ضرور وہ زیادہ صاف ستھرا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہند کے قصبات کے مقابلہ میں۔ ایک مجلس میں مختلف سوالات ہوئے ۔ ان کا تعلق اسلام سے بھی تھا اور مسلمانوں سے بھی۔ چند سوال و جواب یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ جناب نبیل الرحمن صاحب پرنسپل انٹر کالج کی ایک تحریر مجھے دستی طور پر ملی ۔ اس میں موصوف نے لکھا تھا : عرض یہ ہے کہ میں نے آپ کے مضامین اخبار وار سالہ وغیرہ میں پڑھے لیکن ان سے پوری طرح متفق نہیں تھا ۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۶ کو سر دھنہ تشریف لائے۔ عشاء بعد اور جمعہ بعد دونوں تقریر آپ کی سنی الحمد للہ بہت پسند آئیں سب خدشات دور ہو گئے۔ میری صاحبزادی میڈیکل لائن اختیار کرنا چاہتی تھی میں اس بارے میں مذبذب تھا۔ کسی محقق عالم دین کی جو دور جدید کے تقاضوں سے بھی واقف ہو، تلاش میں تھا یہ اوصاف آپ کی شخصیت میں نظر آئے ۔ آپ نے بچی کے متعلق تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ دیا اور اسی کے ساتھ ساتھ دعا کی بھی تاکید کی بچی کے بارے میں دعا کرتے رہو۔ اس سے طبیعت میں جو ایک قسم کی کھٹک تھی وہ دور ہو گئی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔“ ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں کے یہاں کھانا پینا مسلمان کے لیے جائز ہے یا نہیں میں نے کہا کہ کھانے پینے کے معاملہ میں جو فرق ہے وہ مسلم دستر خوان اور غیر مسلم دستر خوان کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ خود کھانے اور پینے کے اعتبار سے ہے۔ یعنی جس چیز کو کھانا یا پینا جائز ہے وہ ہر جگہ جائز ہے۔ اور جس چیز کو کھانا یا پینا حرام ہے وہ ہر جگہ حرام ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ اصول فقہ کی کتابوں میں یہ قاعدہ بتایا جاتا ہے کہ عدد ہمیشہ خاص معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اور خاص لفظ کے معنی میں کمی یا زیادتی نہیں کی جا سکتی۔ پھر احادیث میں عدد کی تعیین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے جو ارشادات ہیں، مثلاً تین سانس میں پانی پینا ، تو آیا اس سے تعیین مراد لیا جائے گا یا تیسیر۔ میں نے کہا کہ چیزیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک کمیاتی نوعیت کی ، اور دوسرے کیفیاتی نوعیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader