پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 522
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے نوٹ بک میں درج کیا۔ وہ حدیث یہ ہے : من صَمَتَ نجا (جو چپ رہا اس نے نجات پائی) میں نے کہا کہ خاموشی کوئی صلبی فعل نہیں ہے ۔ بلکہ وہ ایک ایجابی فعل ہے ۔ آدمی جب خاموش ہوتا ہے تو وہ دراصل اندرونی فنکریمیں مشغول ہو جاتا ہے۔ خارجی فکر آدمی کو بہت کچھ دیتی ہے مگر اندرونی فکر سے آدمی جو کچھ پا تا ہے وہ اپنی گہرائی کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ ہے۔ بنارس کے ڈاکٹر رام جی سنگھ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ وہاں گاندھیئن انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ہیں۔ (330871 ,330125 .Tel) انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مضامین اخباروں میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ دیش میں سدھار لانے کے لیے آپ ہی جیسے سوچنے والے انسان کی ضرورت ہے۔ یہ بات اکثر ہندوؤں نے مختلف الفاظ میں کہی۔ مسلم رہنا پچھلے پچاس سال سے ہندی اور انگریزی میں اپنا اخبار نکالنے کی بات کرتے رہے ہیں مگر موجودہ حالات میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ خود ان کے اخباروں میں مضامین شائع کیے جائیں۔ میرا تجربہ ہے کہ ملکی اخبارات ہمارے مضامین نہایت شوق سے چھاپنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ بشرط صرف یہ ہے کہ وہ وکیلانہ انداز میں نہ لکھے گئے ہوں بلکہ سنجیدہ اور سائنٹفک انداز میں لکھے گئے ہوں۔ ہمارے اسٹیٹ کے گورنر ڈاکٹر الگزیڈر ٹرہند و فلاسفی کے اسکالر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک معلوماتی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوازم فل اسٹاپ میں یقین نہیں رکھتا حتی کہ کاما میں بھی نہیں۔ یہ سچائی کی تلاش کا ایک ابدی بہاؤ ہے : Hinduism does not believe in full stop, not even comma. It believes in perennial flow of search for truth. بظاہر یہ ایک خوب صورت بات معلوم ہوتی ہے مگر وہ درست نہیں۔ یہ بیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے خود بھی ایک فل اسٹاپ ہے۔ مذہب کے مختلف تصورات میں سے کسی ایک تصور کو حتمی قرار دینا اس تصور کو مطلق سچائی کا درجہ دینا ہے۔ جب کہ قائل کا دعویٰ یہ ہے کہ مطلق سچائی ابھی دریافت ہی نہیں ہوئی ۔ جو لوگ اس قسم کی بات کریں ان کے لیے علمی طور پر یہ درست نہیں کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader