پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 532
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ فقہ کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس چیز کے بغیر کسی واجب کو پورا نہ کیا جا سکتا ہو وہ بھی واجب ہو جاتا ہے (ما لا يتم الواجب الا بہ فھو واجب) مثلاً سمت کا علم اگر نہ ہو تو بیرونی علاقوں کے لوگوں کے لیے قبلہ کے رخ کا تعین کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے جس طرح نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے اسی طرح سمت کے علم کا حصول بھی ضروری ہے تا کہ قبلہ کے رخ کا تعین ہو سکے ۔ یہی معاملہ دعوت کا ہے ۔ دعوت کا کام صحیح طور پر صرف اس وقت انجام دیا جا سکتا ہے جبکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات ہوں ۔ اس لیے داعی گروہ پر جس طرح دعوت دینا لازم ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان تعلق کو بگڑنے نہ دے ۔ وہ یک طرفہ کوشش کے ذریعہ دونوں کے درمیان تعلق کو برقرار رکھے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر دعوت کے عمل کی بجا آوری ممکن ہی نہیں ۔ پونہ کے ایک صاحب نے ایک پاکستانی عالم کی ایک کتاب دکھائی وہ شرک کے بارے میں تھی۔ اس میں شرک کی چند قسمیں بتائی گئی تھیں ۔ ان میں سے ایک سیاسی شرک بھی تھا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ”سیاسی شرک “ کا تصور اسلام میں ایک اضافہ ہے جو میرے نزدیک ناقابل معافی جسارت ہے۔ اس قسم کی بات حضرت علیؓ کے زمانہ میں خوارج نے کی تھی ۔ اس کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی ایسی بات نہیں کہی گئی ۔ موجودہ زمانہ میں کچھ نام نہاد مفکرین نے خوارج کے نظریہ کو از سر نو سیاسی شرک کے نام سے زندہ کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ شرک سیاسی کا نظریہ اتنا ہی بے اصل ہے جتنا کہ نبوت ظلی کا نظریہ ۔ دونوں یکساں طور پر قابل رد ہیں ۔ اس قسم کے نظریہ کی تبلیغ ایک فتنہ ہے نہ کہ اسلام کی کوئی خدمت ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریہ نے ساری دنیا میں مسلمانوں کو حکمران طبقہ سے ٹکرار کھا ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کے خلاف اتنی زیادہ نفرت پیدا ہوگئی ہے کہ دعوت توحید کا کام کرنا ہی سخت مشکل ہو گیا ہے ۔ الرسالمیں ایک مسلم شخصیت کی ایک بات پر تنقید چھپی تھی۔ اس پر ایک صاحب نے شکایت کی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے جوش میں آ کر کہا : وہ اتنے بڑے تھے کہ ان سے کوئی چھوٹا بھی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader