Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 538

By Maulana Wahiduddin Khan

براہ راست تحریک کا نشانہ بنایا جائے تو اس سے صرف فساد پیدا ہوگا نہ کہ اصلاح۔ ڈاکٹر سریندر بارلگے نے یکم دسمبر کی صبح کو اپنے یہاں چائے پر مدعو کیا تھا۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ ڈاکٹر بارلگے کی عمر تقریباً ۵۰ سال ہے اور وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے برت کو انگریز وائسرائے نے اپنی فوجوں سے زیادہ طاقتور بتایا تھا۔ پھر چاہتا گاندھی نے ملک کے بٹوارے کوروکنے کے لیے اپنی یہ طاقت کیوں نہیں استعمال کی۔ ڈاکٹر بارلگے نے کہا کہ مہاتما گاندھی سے براہ راست یہ سوال کیا گیا تھا انھوں نے جواب دیا کہ میرے برت کی طاقت اس وقت ہے جب کہ عوام میرے ساتھ ہوں۔ اور اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ بٹوارے کے سوال پر دیش کے عوام میرا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ڈاکٹر بارلگے نے کہا کہ اس وقت میں ایک مراٹھی اخبار ’انقلاب‘ نکالتا تھا۔ میں نے خود اپنے اخبار میں اس پر اداریہ لکھا تھا جس میں نے کہا تھا کہ پاکستان دو، آزادی لو۔ انھوں نے کہا کہ اس سوال پر اگر مہاتما گاندھی برت رکھتے تو یقیناً ان کا برت ناکام ہو جاتا۔ کیوں کہ عوام آزادی کے لیے مزید انتظار پر تیار نہ تھے۔ اس گفتگو کے بعد مجھے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب (آزادی ہند) یاد آئی۔ انھوں نے اس معاملہ پر جو کچھ لکھا ہے اس میں مذکورہ پہلو کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ انھوں نے ملک کی تقسیم کے معاملہ کو صرف چند سیاسی شخصیتوں کا معاملہ بنا دیا ہے وہ اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ جمہوری دور میں کسی سیاسی شخصیت کی طاقت صرف اس وقت ہے جب کہ عوام کی بھیڑ اس کے ساتھ ہو۔ عوامی بھیڑ سے کٹتے ہی سیاسی لیڈر کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے ترازو کے پلڑے پر گرام کا باٹ چھوڑ کر کونسل کا باٹ اس سے اتار لیا جائے۔ ۳۰ نومبر کو کانفرنس ختم ہو گئی مگر اس کے معا بعد یکم دسمبر ۱۹۹۶ء کو ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ ایک بڑے پنڈال میں کافی لوگ اکٹھے تھے۔ یہ جلسہ ورلڈ پیس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں دوسرے ممتاز افراد کے علاوہ ڈاکٹر کلیس نوبیل (فاؤنڈر چیر مین، یونائیٹڈ ارتھ، نیویارک) فرانسین فور نیر (اسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل، یونیسکو، فرانس) شامل تھے۔ اس موقع پر دوسروں کے علاوہ میری بھی ایک تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ امن کے مقصد کے لیے ایک تعلیمی اور تربیتی ادارہ قائم کرنا بہت خوش آئند بات ہے۔ میں دل سے بے حد امن پسند آدمی ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page