پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 540
By Maulana Wahiduddin Khan
کتابوں کے مطالعہ سے یا اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کے انٹرایکشن سے انسانی تجربات میں اور عمومی طور پر انسانیت کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کانفرنسوں کے دوران تعمیری موضوعات کا جو چرچا ہوتا ہے اس سے ان کے حق میں ایک عمومی فضا بنتی ہے جو کسی اور طرح نہیں بن سکتی۔ یکم دسمبر ۱۹۹۶ء کی شام کو دہلی واپسی ہوئی تو مغرب بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ میرا یہ سفر خلاف معمول کافی لمبا تھا۔ اس سے پہلے میں صرف ایک دن کے لیے پونہ آیا تھا۔ مگر اس بار پورے آٹھ دن پونہ میں گزرے۔ میں نے سوچا کہ یہی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ کچھ لوگ دنیا میں بہت تھوڑا وقت گزار کر مر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ وہ ہیں جو زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں اصل اہمیت مدت کی نہیں ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی نے کیا پایا اور کیا سیکھا۔ کبھی زندگی کا ایک لمحہ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ وہ صدیوں پر بھاری ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان دنیا میں اگر سو سال تک جیتا ہے۔ مگر اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جیسا آیا تھا ویسا ہی واپس چلا گیا۔ پونہ سے واپسی کے بعد جو خطوط ملے ان میں سے ایک خط میری لڑکی امِ اسلام کا بھی تھا۔ اس نے پونہ کے پروگرام کے بارے میں اخبار میں پڑھا۔ اس کے بعد اس نے ایک خط لکھا جس کا ایک حصہ یہ تھا : پونہ کے سمیلین کا پروگرام مرہٹی اخبار میں آیا۔ اس میں شمع جلاتے وقت آپ کا فوٹو ہے سب کے ساتھ۔ مگر سب سے زیادہ کمزور اور دبـلے آپ دکھائی دے رہے ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ اور بار بار دل میں یاد آتی رہی کہ سب لوگ کیسے صحت مند ہیں اور میرے ابا کی ایسی حالت۔ اللہ تعالیٰ سے خوب خوب دعا کی آپ کی صحت کے لیے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ آمین۔ میری لڑکی کو مجھے دبلا دیکھ کر تعجب ہوا۔ مگر مجھے اس پر تعجب ہے کہ لوگ موٹے کیوں ہیں۔ اگر لوگوں کو اس حقیقت کا احساس ہو جائے کہ ہر لمحہ وہ ایک ناقابلِ بیان قسم کے سنگین حادثہ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جس کا نام موت اور قیامت ہے تو لوگوں کا سکون ان سے چھن جائے۔ قہقہے کی آوازیں بلند نہ ہوں۔ فربہ جسم کے مناظر کہیں دکھائی نہ دیں۔ پونہ کے سفر سے واپسی کے بعد جناب عبد الصمد شیخ صاحب کا ایک خط موصول ہوا جو انہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader