Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 555

By Maulana Wahiduddin Khan

ہی زیادہ دکھ دائی ہوتا جا رہا ہے ، ایسا کیوں ( نام درج نہیں) جواب : اس کا سبب ہندوستان کا تعلیم میں پچھڑا پن ہے ۔ مزید یہ کہ قوموں میں اس طرح کی خرابیاں ہمیشہ انٹر ایکشن نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں ہندوستانیوں کا انٹر ایکشن دوسری قوموں سے ہوتا تھا۔ آزادی کے بعد نہرو کی ” پروٹیکشن" کی پالیسی نے یہ انٹر ایکشن ختم کر دیا۔ اسی کے یہ سب نتائج ہیں ۔ اب نئی سرکاری پالیسی کے تحت دوبارہ ہندوستانیوں کا انٹر ایکشن دوسری قوموں کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اپنے آپ یہ برائی ختم ہو جائے گی ۔ سوال : کیا دور درشن یا آکاش وانی سے ایکتا کے نعرے لگانے سے راشٹریہ ایکتا ہو سکتی ہے۔ بڑی نہیں تو دونوں درگوں میں بھائی چارہ کی نیو مضبوط کرنا ہے تو ملاؤں تنھا سنتوں کو نیترت کرنا ہے تو کون پرے رہنے دے گا۔ کہیں نہ کہیں دو ش ورگوں کا ہے۔ اسے کیسے دور کیا جا سکتا ہے ( نام درج نہیں) جواب : دور درشن اور آکاش وانی کے پروگراموں سے قومی ایکتا نہیں آسکتی۔ اس کے لئے سچی کوشش ضروری ہے ۔ اور یہ سچی کوشش مذہبی اور روحانی لوگ ہی کر سکتے ہیں ماضی میں صوفیوں اور سنتوں نے ہی میل ملاپ کی فضا بنائی تھی، آج بھی وہی لوگ ایسا کر سکتے ہیں ۔ سوال : ایسا کیوں ہے کہ بھارت میں کئی درگوں کے ہوتے ہوئے بھی ساپر دایکتا صرف دو ورگوں ہی میں پھیلتا ہے۔ کیا اس کا کارن مسلم درگ کی شاشک منوورتی ہے یا دھارمک کٹ پن۔ ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے مسلم ورگ کو ہزار ورش ہونے کے باوجود سنگھرش کو منوورتی کیوں ہے ۔ ( نام درج نہیں) جواب : اس کا صحیح جواب وہ ہے جو ہمایوں کبیر نے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان میچاریٹی کمیونٹی کے مقابلہ میں نیکسٹ ٹو میچاریٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی نفسیات ہے جس کو ہندی میں تر پریا کہا جاتا ہے۔ بھائی بہن اگر تر پریا ہوں تو ان میں نوک جھونک ہوتا رہتا ہے ۔ یہی مسلمانوں اور ہندوؤں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ تاہم بھائی بہن جب بڑے ہو جائیں تو یہ نفسیات ختم ہو جاتی ہے ۔ ہندو اور مسلمان تعلیم کی کمی کی بنا پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page