پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 557
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ملک کو امن اور ترقی کی طرف لے جانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے ، دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ کسی قوم کے دانشور قوم کا ذہن بنانے والے (opinion makers) ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے دانشوروں نے اس معاملہ میں صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے رہے۔ لوگوں میں صحیح سوچ نہیں ابھری۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۱ میں انڈیا نے شیخ مجیب الرحمان کا ساتھ دیا اور پاکستان ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تو پاکستان کے دانشوروں نے اپنی قوم میں انتقام کی آگ بھڑکانا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں انڈیا سے اس کا بدلہ لینا ہے۔ چنانچہ انھوں نے کشمیر کے علاحدگی پسند عناصر کی ہمت افزائی کی۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۹ میں باقاعدہ طور پر وہاں گن کلچر چلوا دیا۔ ایسا ہی کام ہندو دانشوروں کے ایک طبقہ نے کیا۔ انھوں نے بابری مسجد کے معاملے میں ہندو قوم کو یہ بتایا کہ یہ تمہارے لئے دوسری ہار (second defeat) کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۴۷ میں تم کو مسلمانوں کے مقابلے میں ہار ہوئی تھی۔ اب دوسری بار تم کو ہار پر راضی نہیں ہونا ہے۔ دونوں فرقوں کے دانشوروں کو وہ کرنا چاہئے تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانی دانشوروں نے کیا۔ امریکہ نے ایٹم بم گرا کر جب ہیروشیما کو تباہ کیا تو جاپانی انتقامی نفسیات سے بھڑک اٹھے۔ اس وقت جاپانی دانشوروں نے اپنی قوم سے کہا کہ ۱۹۴۱ میں ہم نے امریکہ کے پرل ہاربر کو تباہ کیا تھا ، انھوں نے ۱۹۴۵ میں ہمارے ہیروشیما کو تباہ کر دیا۔ معاملہ برابر ہو گیا۔ اب ماضی کے انتقام کو چھوڑ کر مستقبل کی تعمیر کی فکر کرو۔ اس طرح جاپانیوں کو عمل کا صحیح تعمیری رخ مل گیا۔ اسی طرح پاکستانی دانشوروں کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم نے ۱۹۴۷ میں ان کے ملک کو توڑا تھا ، انھوں نے ۱۹۷۱ میں ہمارے ملک کو توڑ دیا۔ معاملہ برابر ہو گیا۔ اسی طرح ہندوستانی دانشوروں کو کہنا تھا کہ ۱۹۴۷ میں انھوں نے ہمارے ملک کو بٹوا یا تھا جس کا ہمیں غم تھا ، ۱۹۷۱ میں ہم نے ان کے ملک کو دو حصے کر کے معاملہ برابر کر لیا۔ اب اس بات کو چھوڑو اور تعمیر و ترقی کی طرف دھیان لگاؤ۔ مگر بدقسمتی سے دونوں میں سے کسی ملک میں بھی جاپان جیسے دانشور نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader