پونہ کا سفر
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ صنعت کار کا بنیادی مقصد کار و بار کو بڑھانا ہوتا ہے اور مذہبی رہنماؤں کا بنیادی مقصد شخصیت کو بڑھانا۔ چڑیوں کو بالائی فضا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر قدیم زمانہ سے انسان یہ خواہش کرتا رہا ہے کہ وہ فضا میں اڑے۔ قدیم اسپین میں ایک مسلمان عباس بن فرناس دم ۸۸۸ ھ تھا۔ اس کے اندر نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا۔ اس نے خاص طرز کی ایک بڑی سی چادر بنائی اور پھر چھتری کی مانند اس میں اپنے آپ کو باندھا اور بلندی پر چڑھ کر فضا میں چھلانگ لگائی۔ تھوڑی دور جا کر وہ زمین پر گر پڑا اس کے دونوں بازو ٹوٹ گئے کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کا معاملہ قاضی سلیمان بن اسود الغافقی کی عدالت میں پیش کیا۔ قاضی نے اس کو غیر معتدل قرار دے کر حکم دیا کہ آئندہ وہ اس قسم کے تجربات نہ کرے۔ احمد شریف الرفاعی کا مضمون (المدینہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۹) نظر سے گزرا۔ موصوف نے لکھا تھا کہ اگر عباس بن فرناس پر روک نہ لگائی جاتی تو یقیناً ہم ہو ابازی کے طریقہ کو ہزار سال پہلے جان لینے۔ (لقد أعدموه علمياً ... ولو تركوه لشأنه لعرفنا الطيران قبل أكثر ألف سنة) عرب مضمون نگار نے اپنا یہ مضمون "من شرفات التراث" کے عنوان کے تحت شائع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو نہ جان سکے کہ ہوائی جہاز کا بننا طویل علمی تحقیق اور بے شمار تجربات کے بعد ممکن ہوا ہے۔ اس میں پوری انسانیت کا سفر شامل ہے۔ وقت کی حکومت اگر عباس بن فرناس کے لئے ساری سہولتوں کا ڈھیر لگا دیتی تب بھی یہ ناممکن تھا کہ جو ہوائی مشین بیسویں صدی میں بنی، وہ اچانک نویں صدی میں بن کر تیار ہو جاتی۔ میرے ساتھ بار بار ایسا پیش آیا ہے کہ میں ٹکٹ کے باوجود سفر نہ کر سکا۔ مثلاً ایک بار میرے پاس لمبے عالمی سفر کا ٹکٹ تھا۔ کسی وجہ سے مجھے اپنے سفر کو مختصر کرنا پڑا ۔ میں نے ٹکٹ کی بچی ہوئی رقم کا واوچر بنوایا جو اس کے بعد کئی سفروں میں کام آیا۔ آخر میں میرے پاس دہلی - بمبئی کا ریٹرن ٹکٹ تھا۔ اس ٹکٹ کو دوبارہ رقم کی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ صرف سفر ہی میں اس کو استعمال کرنا ممکن تھا۔ مگر بار بار ایسے حالات پیش آئے کہ میں بمبئی کا سفر نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ ٹکٹ کی مدت آخری طور پر ختم ہو گئی، اور وہ استعمال کے قابل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader