ایک واقعہ
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو وہ منتر بتا دیا۔ سادھو نے کہا کہ وہ منتر’’سم سم‘‘ ہے ۔ تم فلاں پہاڑ کی چوٹی پر جاؤ۔ وہاں تم کو ایک محل ملے گا۔ اس محل کے گیٹ پر ایک تالا لڑکا ہو گا۔ تم اُس کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا : کُھل اے سم سم ، کُھل اے سم سم، پھر وہ تالا کُھل جائے گا۔ وہ آدمی روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے بعد وہ محل کے گیٹ پر پہنچا، مگر اُس وقت وہ منتر کو بھول چکا تھا۔ وہ گیٹ کے سامنے کھڑا ہو کر دوسرے دوسرے الفاظ بولتا رہا۔ مثلاً کُھل اے ٹُم ٹُم ، کُھل اے دُم دُم، کُھل اے بم بم، مگر دروازہ نہیں کھلا۔ اب وہ وہاں سے واپس ہو کر دوبارہ سادھو کے پاس گیا۔ سادھو نے کہا کہ تم غلط منتر بول رہے تھے، اس لیے تالا نہیں کھلا۔ دوبارہ جاؤ اور سم سم کہو۔ آدمی نے منتر کو خوب اچھی طرح یاد کر لیا اور سفر کر کے دوبارہ وہاں پہنچا۔ اُس نے محل کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا : کُھل اے سم سم اور پھر فوراً دروازہ کھل گیا۔ اکثر لوگ اسمِ اعظم کو اسی قسم کا ایک طلسماتی لفظ سمجھتے ہیں، مگر اس قسم کی سوچ بالکل غلط ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسمِ اعظم ڈکشنری کے کسی لفظ کا نام نہیں، وہ انسان کی اپنی داخلی کیفیت کا نام ہے۔ جب بھی کوئی سچا بندہ، اعلیٰ قلبی کیفیات کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اُس کو فرشتوں کی مدد حاصل ہو جاتی ہے۔ اُس وقت اُس کے اندر سے مخصوص قسم کے ربانی الفاظ نکلنے لگتے ہیں، اسی کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ اس قسم کی دعا، خدائی الہام کے تحت ہوتی ہے اور جو دعا خدائی الہام کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader