دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ رات کا وقت تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاف ستھرے حال میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ سب انگریزی داں لوگ ہیں۔ ان کو مجھے انگریزی میں خطاب کرنا ہے، کیوں کہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ خبر میرے لیے ایسی تھی جیسے کسی کے اوپر اچانک بجلی گر جائے۔ اس سے پہلے میں نے انگریزی زبان میں پیشگی طور پر تیار کیے ہوئے مقالے پڑھے تھے، لیکن برجستہ طور پر انگریزی میں میں نے کبھی خطاب نہیں کیا تھا۔ حال کے ساتھ وہاں ایک سائیڈ روم تھا۔ میں سراسیمگی کے عالم میں اس سائیڈ روم میں گیا۔ میں نے اندر سے دروازے کو بند کر لیا۔ اور وضو کر کے دورکعت صلوة الحاجت پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے کہ پانی کا نل کھل گیا ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ خدایا، یہاں ایک عاجز مطلق کو قادرِ مطلق کی ترجمانی کرنی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو پتھروں کو حکم دیں اور وہ چلا کر آپ کی بات کا اعلان کریں۔ آپ اگر حکم دیں تو درخت اپنی خاموشی کو توڑ کر انسانوں سے خطاب کریں۔ اگر آپ حکم دیں تو زمین اور آسمان، وہ سب کچھ بولیں جو انسان کو بولنا تھا، مگر وہ نہ بول سکا۔ لیکن خدایا، آپ خود اپنے قانونِ امتحان کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں کہ آپ میرے جیسے عاجز انسان کی وہ مدد کریں جو اس سے پہلے آپ نے کسی اور کی نہیں کی۔ خدایا، میں آپ کے تمام اسماء حسنیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader